GRAP 2 restrictions in Delhi: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی میں اضافہ، گریپ-2 نافذ، جانئے کیا ہے گریپ اور اسے کیوں نافذ کیا جاتا ہے؟
گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اس منصوبے کا سب سے سخت مرحلہ ہے۔ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ دیگر ٹرکوں کی دہلی میں داخلے پر پابندی عائد ہوجاتی ہے۔اسکول اور کالج بند کیے جا سکتے ہیں اور آن لائن کلاسز شروع کی جا سکتی ہیں۔سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔حکومت طاق اور جفت نمبر والی گاڑیوں سے متعلق اسکیم بھی نافذ کرسکتی ہے۔
Delhi-NCR, Air Pollution: دہلی-این سی آر میں بارش کے بعد بڑھی ٹھنڈ، کیا زہریلی ہوا سے بھی ملے گی راحت؟
دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق، کئی علاقوں میں فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 200 سے اوپر درج کیا گیا۔ وویک وہار میں اے کیو آئی 288، جہانگیر پوری میں 275 اور منڈکا میں 273 ریکارڈ کیا گیا۔بارش سے ہوا میں موجود گردوغبار کے ذرات کم ہو سکتے ہیں،
Delhi-NCR, the Air Quality Index: دہلی-این سی آر میں آلودگی بڑھتے ہی کیوں نافذ ہوتا ہے گریپ؟ جانئے کس مرحلے میں کون سی پابندیاں لگتی ہیں
دہلی-این سی آر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر جمعہ کے روز دہلی کے وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے بھی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ جب تک گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (گریپ-1) نافذ ہے، وہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ نکالیں اور حکومت کی کوششوں میں تعاون کریں۔سرسا نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال اچھی نہیں ہے۔
Delhi-NCR, important guidelines: دہلی-این سی آر کے اسکولوں میں 2 ماہ تک کھیلوں کی سرگرمیوں پر روک، سی اے کیو ایم نے جاری کی ایڈوائزری
نومبر اور دسمبر میں دہلی کے ساتھ ساتھ پورے این سی آر میں آلودگی کا مسئلہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ ہوا میں آلودگی کی سطح بڑھنے سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور کھلے میدان میں طویل وقت تک جسمانی سرگرمیاں کرنا بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی اے کیو ایم نے اسکولوں کو پہلے ہی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔گزشتہ کچھ برسوں میں آلودگی کی صورتحال خراب ہونے پر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر بھی روک لگانی پڑی ہے۔
All India Weather Update: ہولی سے پہلے موسم کا بدلا مزاج، مارچ میں اپریل جیسی گرمی ، کہیں بارش کا امکان
دہلی اور این سی آر کے علاقوں میں 28 فروری سے 2 مارچ تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ آسمان صاف رہنے اور تیز دھوپ کے باعث دن کے وقت گرمی میں نمایاں اضافہ محسوس کیا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے،
How Air Pollution Affects Children In Delhi: دہلی-این سی آر میں بڑھتی فضائی آلودگی کےخوف کے سائے میں جی رہے بچے
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ شدید آلودگی کے باوجود کئی بچے اسکول، کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کے لیے باہر جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی پالیسی سازی میں بچوں کی صحت اور ان کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے،
Delhi Weather Today: دہلی این سی آر میں بارش اور تیز ہواؤں سے سردی کی واپسی، درجہ حرارت میں نمایاں کمی
گزشتہ ایک ہفتے سے دہلی این سی آر میں تیز دھوپ اور ہلکی ہواؤں کے باعث گرمی کا احساس بڑھ گیا تھا، تاہم 18 فروری کو اچانک موسم نے کروٹ لی اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش نے موسم کو خوشگوار مگر سرد بنا دیا۔
Weather Today: دہلی این سی آر میں ستانے لگی گرمی، دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک، اتر پردیش – بہار میں چھائی دھند اور کہرے کی چادر
دہلی میں مسلسل دوسرے دن موسم گرم رہا اور اس سیزن کا اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت اٹھائیس اعشاریہ چھ ڈگری تک پہنچ گیا جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ دن میں تیز دھوپ نکل رہی ہے
Weather Update 7 February 2026: دہلی-این سی آر میں درجۂ حرارت میں اضافہ، پہاڑی علاقوں میں برفباری کے آثار، کئی ریاستوں میں بارش، کہرے اور آندھی طوفان کا الرٹ
دہلی-این سی آر کے موسم پر نظر ڈالیں تو محکمۂ موسمیات کے مطابق ہفتہ 7 فروری کو موسم زیادہ تر صاف رہنے کی توقع ہے۔ دن کے وقت دھوپ نکلنے سے سردی میں کمی محسوس ہوگی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 8 اور 9 فروری کو آسمان پر جزوی بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔
Delhi Air Quality Index: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی ے لوگوں کا گھٹ رہا ہے دم، اے کیو آئی 342 سے تجاوز
غازی آباد کے لونی علاقے میں اے کیو آئی 342، وسندھرا میں 329 اور اندرا پورم میں 326 رہا۔ نوئیڈا کے سیکٹر 125 میں اے کیو آئی 310، سیکٹر 1 میں 289 اور سیکٹر 116 میں 282 ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ چند علاقوں میں ہوا کا معیار خراب زمرے میں رہا، مگر بیشتر علاقے انتہائی خراب کی سطح پر برقرار ہیں۔





