Bharat Express DD Free Dish

Delhi-NCR Pollution

بے موسم بارش نے جہاں ایک طرف کسانوں کی تشویش بڑھا دی ہے، وہیں دوسری جانب شہری زندگی کے لیے یہ راحت کی خبر ثابت ہو رہی ہے۔ بارش اور تیز ہواؤں کے باعث درجۂ حرارت میں کمی اور ہوا کے معیار میں بہتری سے لوگوں کو موسم کی خوشگواری کا احساس ہونے لگا ہے۔

نومبر اور دسمبر میں دہلی کے ساتھ ساتھ پورے این سی آر میں آلودگی کا مسئلہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ ہوا میں آلودگی کی سطح بڑھنے سے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور کھلے میدان میں طویل وقت تک جسمانی سرگرمیاں کرنا بچوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی اے کیو ایم نے اسکولوں کو پہلے ہی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔گزشتہ کچھ برسوں میں آلودگی کی صورتحال خراب ہونے پر اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر بھی روک لگانی پڑی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ ویسٹرن ڈسٹربنس ہے، جس کے باعث این سی آر اور آس پاس کے علاقوں میں ہواؤں کی رفتار بڑھے گی اور درجہ حرارت میں کمی آئے گی۔

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھے گا، موسم آہستہ آہستہ گرم ہونے کی طرف جائے گا۔ فی الحال تیز ہواؤں کے باعث ہوا میں آلودگی کی کمی سے شہریوں کو کافی حد تک راحت ملی ہے۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ شدید آلودگی کے باوجود کئی بچے اسکول، کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں کے لیے باہر جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی پالیسی سازی میں بچوں کی صحت اور ان کے عملی تجربات کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے،

ماہرین کا ماننا ہے کہ بارش اور تیز ہواؤں کے باعث آلودگی کی سطح میں کمی آئے گی، لیکن اس کے بعد 2 سے 3 دنوں تک شدید سردی بھی لوگوں کو پریشان کر سکتی ہے۔ ایسے میں محکمہ موسمیات نے لوگوں کو محتاط رہنے، کھلی جگہوں پر کم نکلنے اور سردی سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دہلی-این سی آرمیں ہوا کے معیارمیں بہتری کے بعد، گریپ 4 کی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ اس میں تعمیراتی پابندیاں بھی شامل ہیں۔

صحت کے ماہرین نے بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور گھروں کے اندر رہنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ فی الحال جب تک موسم میں تبدیلی یا تیز ہوائیں نہیں چلتیں، این سی آر کے لوگوں کو آلودگی سے راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق 10 جنوری کی صبح کو دھند چھائی رہی۔ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت تقریباً 17 ڈگری سیلسیس جبکہ کم سے کم درجۂ حرارت 6 ڈگری کے آس پاس درج کیا گیا۔ نمی کی سطح بھی خاصی زیادہ رہی، جس سے دھند اور آلودگی کے اثرات مزید بڑھ گئے۔ 11 جنوری کو کم سے کم درجۂ حرارت کے 5 ڈگری تک گرنے کا امکان ہے، جبکہ 12 جنوری کو بھی سردی اور دھند کی کیفیت برقرار رہ سکتی ہے۔

صحت کے ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں، ماسک کا استعمال کریں، بچوں اور بزرگوں کا خاص خیال رکھیں، اور صبح و شام کھلی ہوا میں چہل قدمی کرنے سے بچیں۔ حکومتی ایجنسیوں اور مقامی انتظامیہ پر بھی آلودگی روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔