Urdu Conclave 2026

BJP MP Praveen Khandelwal Demands Renaming Delhi: کیا تبدیل ہو جائے گا دہلی کا نام؟ بی جے پی رکن اسمبلی نے امت شاہ کو لکھا خط، بتائیں تین بڑی وجوہات

بی جے پی رکن اسمبلی پروین کھنڈیل وال نے وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو خط لکھ کر دہلی کا نام بدل کر ‘اندرپرستھ’ کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے اس میں اے ایس آئی کی کھدائی اور مہا بھارت کا حوالہ دیا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خط میں اور کیا کہا۔

دارالحکومت دہلی کے نام کے سلسلے میں ایک بار پھر نام کی تبدیلی کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ چاندنی چوک سے بی جے پی رکن اسمبلی اور سی اے آئی ٹی کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیل وال نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر دہلی کا نام بدل کر ‘اندرپرستھ’ کرنے کے لیے رسمی کارروائی شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ کھنڈیل وال کا موقف ہے کہ دہلی کی اصل اور تہذیبی شناخت مہا بھارت کے دور کے ‘اندرپرستھ’ سے وابستہ ہے۔

تاریخی شواہد کا حوالہ

اپنے خط میں پروین کھنڈیل وال نے دہلی کی قدیم تاریخ کو اجاگر کرتے ہوئے کئی اہم نکات رکھے ہیں۔ کھنڈیل وال کے مطابق، تاریخی ادب اور تہذیبی روایات واضح کرتی ہیں کہ آج کی دہلی وہی مقام ہے جہاں پانڈوؤں نے اپنی شاندار راجدھانی ‘اندرپرستھ’ بسائی تھی۔ انہوں نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی پرانا قلعہ میں کی گئی کھدائی کا ذکر کیا، جہاں 1000 قبل مسیح کی ‘پینٹڈ گرے وئیر’ (PGW) مٹی کے برتنوں کے آثار ملے ہیں، جنہیں مہا بھارت کے دور سے جوڑا جاتا ہے۔

’دہلی‘ کے نام پر دلیل

پروین کھنڈیل وال نے کہا کہ ‘دہلی’ کا نام وسطی دور (ڈھلکا یا دہلی) کا پیداوار ہے، جو راجدھانی کی قدیم وراثت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔ رکن اسمبلی کھنڈیل وال نے نہ صرف مرکزی حکومت بلکہ دہلی کی نو منتخب وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی ایک الگ خط لکھا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی اسمبلی میں دہلی کا نام ‘اندرپرستھ’ کرنے کے لیے ایک رسمی قرارداد منظور کی جائے۔ دہلی میں کسی مناسب مقام پر پانڈوؤں کے مجسمے قائم کیے جائیں، تاکہ شہر کی ثقافتی شناخت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔

پر یاگ راج اور ممبئی کی مثال

اپنی درخواست کو منطقی بنانے کے لیے کھنڈیل وال نے ملک کے دیگر شہروں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پر یاگ راج، ممبئی، کولکاتا اور چنئی کے تاریخی نام دوبارہ قائم کیے گئے ہیں، اسی طرح دہلی کو بھی اس کی اصل شناخت ملنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی کے کئی اہم اداروں میں ‘اندرپرستھ’ کا نام پہلے سے رائج اور قبول شدہ ہے۔

قومی فخر اور رکن اسمبلی کا وژن

کھنڈیل وال نے وزیرداخلہ سے درخواست کی کہ تاریخ دانوں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کر کے اس سمت میں اقدامات کیے جائیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ قدم نہ صرف ایک ‘تاریخی تضاد’ کو دور کرے گا بلکہ دنیا کے منظرنامے پر بھارت کی قدیم وراثت کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں پیش کرے گا۔ فی الحال، اس پر وزیرداخلہ اور دہلی حکومت کی رائے کا انتظار ہے۔ اگر یہ عمل آگے بڑھتا ہے تو یہ دہلی کی سیاست اور شناخت کے لیے ایک تاریخی اور اہم تبدیلی ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read