نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے فریم ورک کو لے کر مرکزی حکومت پر اپنا حملہ تیز کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے نام پر ’’ہندوستانی کسانوں سے غداری‘‘ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ امریکہ سے ڈسٹلرز ڈرائیڈ گرینس (DDG) درآمد کرنے کا آخر مطلب کیا ہے؟ گاندھی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہندوستانی مویشیوں کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) امریکی مکئی سے تیار شدہ چارہ کھلایا جائے گا، اور کیا اس طرح ہندوستان کی دودھ پیداوار کو امریکی زرعی صنعت پر منحصر بنا دیا جائے گا؟ راہل گاندھی نے لکھا: ’’ہم ایک امریکی تجارتی معاہدے کے نام پر ہندوستان کے کسانوں سے غداری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ میں وزیراعظم سے چند سادہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں: DDG کی درآمد کا صحیح مطلب کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستانی مویشیوں کو GM امریکی مکئی سے بنا ہوا چارہ کھلایا جائے گا؟ کیا اس سے ہماری دودھ پیداوار مؤثر طور پر امریکی زرعی صنعت پر منحصر نہیں ہو جائے گی؟”
جی ایم سویا بین تیل اور کسانوں پر اثرات کا سوال
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین تیل کی درآمد کی اجازت دی جاتی ہے تو مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور ملک بھر کے سویا بین کسانوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ انہوں نے پوچھا کہ ’’ایڈیشنل پروڈکٹس‘‘ (اضافی مصنوعات) کی اصطلاح کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وقت کے ساتھ بھارت پر دالوں اور دیگر اجناس کی منڈیوں کو امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کا دباؤ ڈالا جائے گا؟ انہوں نے کہا: ’’اگر ہم GM سویا بین تیل کی درآمد کی اجازت دیتے ہیں تو ہمارے سویا بین کسانوں کا کیا ہوگا؟ وہ ایک اور قیمتوں کے جھٹکے کو کیسے برداشت کریں گے؟ جب آپ ‘اضافی مصنوعات’ کہتے ہیں تو اس میں آخر کیا شامل ہے؟ کیا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل میں دالوں اور دیگر فصلوں کو امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کا دباؤ بڑھے گا؟‘‘
’نان ٹریڈ بیریئرز‘ اور ایم ایس پی پر خدشات
راہل گاندھی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’’نان ٹریڈ بیریئرز‘‘ (غیر تجارتی رکاوٹیں) ہٹانے کا اصل مطلب کیا ہے؟ کیا بھارت کو مستقبل میں GM فصلوں کے معاملے پر اپنا مؤقف نرم کرنے، سرکاری خریداری کے نظام کو کمزور کرنے یا کم از کم امدادی قیمت (MSP) اور بونس میں کمی کرنے کا دباؤ جھیلنا پڑے گا؟ انہوں نے کہا کہ ایک بار اگر یہ دروازہ کھل گیا تو اسے ہر سال مزید کھولے جانے سے کیسے روکا جائے گا؟ کیا کوئی حفاظتی انتظامات موجود ہوں گے یا ہر نئے معاہدے میں خاموشی سے مزید فصلیں شامل کی جاتی رہیں گی؟ ان کے مطابق ’’یہ صرف آج کا مسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کا سوال ہے—کیا ہم کسی دوسرے ملک کو ہندوستان کے زرعی شعبے پر طویل مدتی گرفت قائم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ کسان ان سوالوں کے واضح جواب کے مستحق ہیں۔‘‘
عبوری معاہدے پر بھی سخت تنقید
اس سے قبل ہفتہ کو بھی راہل گاندھی نے بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے میں ٹیرف سے متعلق دفعات پر وزیر اعظم اور ان کی حکومت پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے کپاس کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں ہندوستانی ملبوسات پر امریکہ میں 18 فیصد ٹیرف عائد ہے، وہیں بنگلہ دیش کو امریکی منڈی میں ملبوسات کی برآمد پر صفر فیصد ٹیرف کی سہولت دی جا رہی ہے، بشرطیکہ وہ امریکی کپاس درآمد کرے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر بھارت بھی یہی رعایت چاہتا ہے تو اسے امریکہ سے کپاس درآمد کرنی ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ حقیقت اب تک ملک سے کیوں چھپائی گئی؟
یہ انتخاب نہیں بلکہ جال ہے
راہل گاندھی کے مطابق، امریکی کپاس درآمد کرنے سے ملکی کسان متاثر ہوں گے، جبکہ درآمد نہ کرنے کی صورت میں ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش بھارت سے کپاس کی درآمد کم کرنے یا روکنے کا اشارہ دے رہا ہے، جس سے ہندوستانی پیدا کنندگان کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
