Bharat Express DD Free Dish

Trade Policy Debate

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی سپریم کورٹ نے جمعہ کو ٹرمپ کی بیشتر جامع ٹیرف پالیسیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تقریباً فوری طور پر تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔

راہل گاندھی کے مطابق’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘

پیوش گوئل کے اس سخت بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے کو لے کر سیاسی محاذ پر تکرار مزید تیز ہو گئی ہے۔ جہاں حکومت اسے بھارت کی بڑی سفارتی اور تجارتی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دور کے معاہدے بھارت کے قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ کیے جا رہے ہیں اور یہی ملک کی مضبوط اور خودمختار معیشت کی بنیاد ہیں۔