Urdu Conclave 2026

Rahul Gandhi attack

نئی دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقدہ ’رچناتمک کانگریس سمیلن‘ میں راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت پر دباؤ برقرار رکھنا ہے اور کانگریس یہ کام مسلسل کرتی رہے گی۔

راہل گاندھی کے مطابق’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر سیاسی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ پیوش گوئل نے راہل گاندھی کے الزامات کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا ہے۔ دوسری جانب راہل گاندھی نے اس معاہدے کو کسانوں پر سیدھا حملہ قرار دیا ہے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے تمام الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ”2023 میں قانون بدل کر سی جے آئی کو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے عمل سے خارج کردیا گیا۔ انتخابات سے قبل یہ بھی ضابطہ لایا گیا کہ کسی بھی الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ سی سی ٹی وی اور ڈیٹا سے متعلق قوانین بھی تبدیل کیے گئے۔“

بہار انتخابات کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اتوار کے روز کشن گنج میں عظیم اتحاد کے امیدواروں کی حمایت میں ریلی کی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور الیکشن کمیشن پر سخت حملہ کیا۔

راہل گاندھی کے الزامات نے بہار انتخابات سے پہلے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ انتخابی نظام کو نہایت خاموشی کے ساتھ ہائی جیک کیا جا رہا ہے، جب کہ الیکشن کمیشن اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس بیانیے کو قبول کرتے ہیں۔