Bharat Express DD Free Dish

national politics

نتیش کمار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ وہ موجودہ انتخابی مرحلے میں راجیہ سبھا کے رکن بننے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ بہار کے عوام کے ساتھ ان کا رشتہ برقرار رہے گا اور ترقی یافتہ بہار کی تعمیر کے لیے ان کا عزم مضبوط رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کو ان کا مکمل تعاون اور رہنمائی حاصل ہوگی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایم ایس پی کو حکومت پر اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ بنایا تھا، خاص طور پر بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے تناظر میں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ یہ معاہدہ کسانوں کے ساتھ ’غداری‘ ہے جس سے سرکاری خریداری کا نظام کمزور ہو سکتا ہے اور ایم ایس پی و بونس میں کمی آسکتی ہے۔

اکھیلیش یادو نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور بھارت-امریکہ معاشی تعلقات کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگراموں پر سوالات اٹھائے۔

راہل گاندھی کے مطابق’’ٹیکسٹائل صنعت اور کپاس کی کاشت بھارت میں روزگار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ کروڑوں لوگوں کی روزی روٹی انہی شعبوں سے وابستہ ہے۔ ان شعبوں پر ضرب لگانے کا مطلب لاکھوں خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی بحران کی طرف دھکیلنا ہے۔ قومی مفاد میں سوچنے والی حکومت ایسا معاہدہ کرتی جو کپاس کے کسانوں اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتی، لیکن اس کے برعکس ہوا ہے۔‘‘

وزیرداخلہ نے گاندھی نگر میں سی بی ڈی سی پر مبنی پی ڈی ایس کا افتتاح کرتے ہوئے تجارتی معاہدوں پر اپوزیشن کو گمراہ کن بیانات کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ اس نے قرض معافی کے وعدوں سے کسانوں کو گمراہ کیا، جبکہ موجودہ حکومت کسانوں کو سالانہ مالی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں قرض لینے کی نوبت نہ آئے۔

مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی جانب سے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔

آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے موقع پر موہن بھاگوت کا یہ خطاب نہ صرف تنظیم کی نظریاتی سمت کو واضح کرتا ہے بلکہ سیاست، سماج اور ثقافت کے باہمی رشتے پر بھی گہری روشنی ڈالتا ہے۔ نریندر مودی کے تعلق سے دی گئی وضاحت سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو آئندہ دنوں میں بحث کا موضوع بن سکتی ہے۔

پرینکا گاندھی نے حکومت پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ میموائر تنازع اور راہل گاندھی کے بیان پر پابندی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سیاسی ماحول نہایت کشیدہ ہو چکا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ پہلے کمیونسٹ اور پھر ٹی ایم سی حکومتوں نے بنگال کو پیچھے دھکیل دیا، جبکہ بی جے پی کا مقصد ’سونار بنگلا‘ (سنہرا بنگال) بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں دراندازی پورے ملک کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے، جسے ٹی ایم سی نے منمانی سیاست کے تحت نظرانداز کیا۔ دراندازی روکنا بی جے پی کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔

انڈیا بلاک نے انتخابی فہرست کی خصوصی جانچ پر بحث کا مطالبہ کیا، پارلیمنٹ کے سیشن میں بھی ہنگامہ متوقع ہے۔ پہلے دن بھی لوک سبھا کی کارروائی دوران بحث متعدد بار دوپہر تک، پھر 2 بجے اور آخرکار دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی۔