ممبئی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے قیام کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر ممبئی کے نہرو سینٹر آڈیٹوریم، ورلی میں منعقدہ دو روزہ خصوصی لیکچر سیریز ’نئے چھتج‘ کا ہفتہ کے روز آغاز ہوا۔ اس موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے پہلے دن سامعین سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کی نظریاتی بنیاد، سماجی یکجہتی، قومی اتحاد اور بھارت کے مستقبل سے متعلق تفصیلی اور جامع خیالات پیش کیے۔ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے واضح طور پر کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس سے نہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وزیر اعظم ہیں، البتہ وہ سنگھ کے رضاکار ضرور ہیں۔ ان کے اس بیان کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
مودی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے تعلق پر وضاحت
اپنے خطاب میں موہن بھاگوت نے کہا: ’’بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ نریندر مودی وزیراعظم ہیں تو آر ایس ایس کے ہیں۔ وہ وزیراعظم ہیں، ان کی ایک سیاسی جماعت ہے بھارتیہ جنتا پارٹی جو ایک الگ تنظیم ہے۔ اس میں بہت سے سنگھ کے رضاکار شامل ہیں اور وہ مؤثر بھی ہیں، مگر بی جے پی آر ایس ایس کی تنظیم نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آر ایس ایس کا مقصد سیاست میں براہ راست مداخلت نہیں بلکہ سماج کو منظم اور متحد کرنا ہے، تاکہ ایک مضبوط اور ہم آہنگ قوم کی تعمیر ہو سکے۔
سماجی اتحاد ہی غلامی کی واپسی کے خلاف ضمانت
ڈاکٹر بھاگوت نے سماج کو متحد رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’دوبارہ غلامی نہ آئے، اس کی ضمانت ہماری یکجہتی میں ہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد پورے سماج کو منظم کرنا ہے، نہ کہ کسی علیحدہ طاقتور ادارے یا ڈھانچے کو کھڑا کرنا۔ ان کے مطابق سماجی تنظیم کا یہ عمل وقت طلب ہوتا ہے اور اس میں لگے کارکنان کے پاس ذاتی کاموں کے لیے بہت کم وقت بچتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر سنگھ کے کارکنوں کے گھروں میں جا کر حالات معلوم کیے جائیں تو مائیں اور بہنیں شکایت کریں گی کہ انہیں گھر کے کاموں کے لیے بھی فرصت نہیں ملتی۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سماجی خدمت کے لیے وہ کس حد تک وقف ہیں۔
ہندو سماج کی تعریف اور چار طبقات
ڈاکٹر موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں ہندو سماج کی تعریف پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ’’بھارت میں رہنے والا ہر فرد ہندو ہے۔ ہندو کوئی مخصوص مذہب یا فرقہ نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندو سماج کو چار طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وہ جو فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ہندو ہیں، وہ جو اسے قبول کرتے ہیں، وہ جو آہستہ سے کہتے ہیں اور وہ جو بھول چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان تمام طبقات کو یکجا کرنا ہی سنگھ کی اصل ذمہ داری ہے۔
فیشن، فلم اور سماجی اثرات: سلمان خان کی مثال
اس پروگرام میں بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی موجودگی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے سماج پر فلمی ستاروں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سلمان خان کی مثال دی اور کہا: ’’سلمان خان فلموں میں جو پہنتے ہیں، کالج کے طلبہ بھی وہی پہننے لگتے ہیں۔ اگر پوچھا جائے کہ کیوں، تو جواب ملتا ہے — پتہ نہیں! سماج فیشن کے ذریعے چلتا ہے اور فیشن بنانے والے ہی قابلِ اعتماد اور رہنما مانے جاتے ہیں۔‘‘
مشہور شخصیات کی شرکت
’نئے چھتج‘ لیکچر سیریز میں فلم، صنعت، کاروبار اور سماجی شعبے سے وابستہ متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں فلم ہدایت کار سبھاش گھئی، اداکارہ و رکن پارلیمنٹ ہیما مالنی، معروف گلوکارہ انورادھا پوڈوال، صنعت کار کمار منگلم برلا، این ایس ای کے چیئرمین آشیش چوہان، کوٹک مہندرا سیکورٹیز کے نیلیش شاہ، فلم کیرل اسٹوری 2 کے پروڈیوسر وپُل شاہ، ٹی سیریز کے رمیش تورانی، مراٹھی اداکار پرساد اوک، بھاؤ قدم، سنیل بروے اور پارسی برادری کے مذہبی پیشوا دستور خورشید دستور سمیت کئی اہم شخصیات شامل تھیں۔ تمام مہمانوں نے ڈاکٹر موہن بھاگوت کے خطاب کو فکری، جامع اور سماجی بیداری سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس ایک قوم دوست تنظیم ہے جو سماج کو جوڑنے کا کام کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


