Bharat Express DD Free Dish

Howard Lutnick Reveals India-US Trade Deal: ڈونالڈ ٹرمپ کا ذاتی انا کا مسئلہ امریکہ کو پڑے گا مہنگا؟ وائٹ ہاؤس کے قریبی نے بتایا بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر بریک کی وجہ

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔ لٹنک کے مطابق یہی انا کا ٹکراؤ بھارت-امریکہ ٹریڈ ڈیل کے ٹوٹنے کا سبب بنا۔ ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کے نعرے کے ساتھ دوسری بار امریکی صدر بننے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جارحانہ تجارتی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے والے کئی ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں بھارت پر بھی سخت قدم اٹھاتے ہوئے 50 فیصد تک ٹیرف لگا دیا گیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف دوطرفہ تجارتی تعلقات کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ہلچل مچا دی۔

امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ اس بات سے ناخوش تھے کہ وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔ لٹنک کے مطابق ٹرمپ اس فون کال کے منتظر تھے اور جب ایسا نہیں ہوا تو ان کی انا کو ٹھیس پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ اس ناراضگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طے شدہ تجارتی معاہدہ آخری لمحے میں رک گیا اور بھارت کو بھاری ٹیرف کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑی۔

لٹنک نے مزید بتایا کہ معاہدہ رکنے کی وجہ کسی قسم کا معاشی یا پالیسی اختلاف نہیں تھا، بلکہ محض سفارتی آداب سے جڑا معاملہ تھا۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے شرط رکھی گئی تھی کہ وزیر اعظم مودی صدر ٹرمپ کو فون کریں، مگر بھارت اس شرط پر متفق نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی نے فون نہیں کیا اور بالآخر ٹریڈ ڈیل ٹوٹ گئی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن شرائط پر پہلے بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً طے مانا جا رہا تھا، وہ اب نافذ نہیں رہیں۔ امریکہ اس معاہدے سے پیچھے ہٹ چکا ہے اور پہلے سے طے شدہ نکات پر اب دوبارہ غور کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

دریں اثنا، امریکہ نے ایک نیا بل بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت اگر کوئی ملک روس سے تیل، یورینیم یا دیگر توانائی وسائل خریدتا ہے تو اس پر سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس بل کے مطابق ایسے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بل کو منظوری بھی دے چکے ہیں اور حال ہی میں روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھارت کو کھلی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ذاتی انا اور سفارتی ضد اسی طرح خارجہ پالیسی پر حاوی رہی تو اس کے اثرات نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بھارت-امریکہ تعلقات میں پیدا ہونے والی یہ کشیدگی آنے والے دنوں میں کس رخ پر جاتی ہے، اس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read