Bharat Express DD Free Dish

India tariffs

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ نے عالمی محصولات (گلوبل ٹیرف) غیر قانونی قرار دے کر بڑا دھچکا دیا۔ فیصلے کے صرف 24 گھنٹے کے اندر ہی ٹرمپ نے نیا اعلان کرتے ہوئے عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد ٹیرف 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کے اعلان کے بعد بھارتی شیئر بازار میں سونامی جیسی تیزی دیکھنے کو ملی۔ سنسیکس 3647 پوائنٹس کی زبردست چھلانگ لگا کر 85,314 سے تجاوز کر گیا، جبکہ بھارتی روپیہ بھی مضبوط ہوا۔ جانیے مارکیٹ کی اس طوفانی ریکوری کی مکمل اندرونی کہانی۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ آخری مرحلے میں پہنچ کر کیوں رک گیا، اس پر اب ایک چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے کہا ہے کہ اس تعطل کی اصل وجہ کوئی پالیسی اختلاف نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انا ہے، جو اس وقت مجروح ہو گئی جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے انہیں براہِ راست فون نہیں کیا۔

 10 اکتوبر کوامریکہ نے چین سے آنے والے  سامان پر1 نومبر سے 100 فیصد اضافی ٹیرف  لگانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام بیجنگ نے 9 اکتوبر کو ریئر ارتھ  کی برآمدات پر سخت کنٹرول کے نفاذ کے بعد کیا ہے۔ ریئر ارتھ  امریکی دفاع، الیکٹرک وہیکل اور یوزر توانائی کی صنعتوں  کے لئے بے حد  اہم ہیں۔

بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے پاک بھارت تنازعہ کا پورا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو پہلے تو حالات خراب ہوئے لیکن بعد میں پرسکون ہوگئے۔ ٹرمپ نے اس کا پورا کریڈٹ لیا اور کہا کہ انہوں نے اس سال چھ یا سات جنگوں کو روکا جس کے لیے وہ امن کے نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ اس سے بھارت سخت ناراض ہے۔

’’ہم بھارت کے ساتھ بہت کم کاروبار کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ بے پناہ کاروبار کرتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی سب سے بڑی منڈی سمجھتے ہیں مگر ہم انہیں بہت کم بیچتے ہیں — یہ دہائیوں سے مکمل طور پر یک طرفہ تعلق رہا ہے۔‘‘