Bharat Express DD Free Dish

Fake IAS Arrest: گورکھپور میں پکڑا گیا جعلی آئی اے ایس افسر، کروڑوں کا کر چکا تھا نقصان، چار چار بنائیں گرل فرینڈ، تین نکلیں حاملہ

یوپی کے گورکھپور میں جعلی آئی اے ایس گورو کمار نے چار لڑکیوں کو دھوکہ دیا، کروڑوں کی دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کا انکشاف ہوا ہے۔

اتر پردیش کے گورکھپور میں پولیس نے ایک جعلی آئی اے ایس افسر گورو کمار عرف للِت کیشور کو گرفتار کر لیا ہے۔ پوچھ گچھ کے دوران کئی حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ گورو نے کروڑوں کی دھوکہ دہی کی، جعلی آئی ڈی بنائی اور لوگوں کو سرکاری ٹھیکے دلانے کا جھانسہ دے کر دھوکہ دیا۔

چار ریاستوں میں تھا نیٹ ورک

پولیس کی جانچ میں معلوم ہوا کہ گورو نے اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ میں اپنا جال پھیلا رکھا تھا۔ وہ موبائل، دستاویزات اور لین دین کے ذریعے لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ وہ ایک اصلی آئی اے ایس افسر ہے۔ گورو کے چار  لڑکیوں سے ناجائز تعلقات تھے اور ان میں سے تین لڑکیاں حاملہ تھیں۔ سب کو لگتا تھا کہ وہ ایک اصلی آئی اے ایس افسر سے محبت کر رہی ہیں۔ گورو نے سفید اِنووا گاڑی پر لال-نیلی بتی لگائی، سرکاری انداز میں دورے کیے اور AI کے ذریعے تیار کردہ جعلی دستاویزات دکھائے۔ لڑکیوں کو دھوکے کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ پولیس نے یہ بھی معلوم کیا کہ گورو پہلے ہی ایک لڑکی سے محبت کی شادی کر چکا تھا۔ یہ بات اس کی چاروں گرل فرینڈز میں سے کسی کو معلوم نہیں تھی۔ پولیس نے اس کی چیٹ اور کال ریکارڈز کی جانچ کی، جس سے جعلی آئی اے ایس طرزِ زندگی کی حقیقت سامنے آئی۔

دھوکہ دہی کے بڑے کیسز سامنے آئے

تفتیش میں ایک کاروباری شخص نے شکایت کی کہ گورو نے 450 کروڑ کے ٹینڈر دلانے کا جھانسہ دے کر 5 کروڑ روپے اور دو اِنوواگاڑیاں لے لیں۔ جب پولیس نے ثبوت جمع کر لیے، تو گورو کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ایس پی سٹی ابھینَو تیاگی نے بتایا کہ گورو نے چار ریاستوں میں اپنا جال پھیلایا اور کئی لوگوں کو دھوکہ دیا۔ یہ کیس اس شخص سے شروع ہوا جو بہار انتخابات کے دوران گرفتار ہوا اور اس نے گورو کا نام لیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read