نئی دہلی: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران منگل کو لوک سبھا میں انتخابی اصلاحات پر اہم بحث شروع ہوئی، جس میں ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) سے لے کر الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے تک مختلف موضوعات شامل رہے۔ بحث کا آغاز کانگریس کے سینئر رکنِ پارلیمان منیش تیواری نے کیا۔
اسپیکر نے کی اپیل: الزامات سے بچیں، اصلاحات پر توجہ دیں
بحث شروع ہونے سے پہلے لوک سبھا اسپیکر اوم بِرلا نے اسے حساس موضوع قرار دیتے ہوئے اراکین سے درخواست کی کہ وہ الزام تراشی سے گریز کریں اور پوری گفتگو انتخابی اصلاحات کے دائرے میں رکھیں۔
’جمہوریت میں ووٹر اور سیاسی جماعتیں بنیادی شراکت دار‘: منیش تیواری
منیش تیواری نے اپنی تقریر میں کہا کہ جمہوریت میں سب سے بڑا فریق عوام اور سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے ایک نیوٹرل ایمپائر کی ضرورت تھی، اسی مقصد سے الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ راجیو گاندھی حکومت نے ملک میں سب سے بڑا انتخابی اصلاحاتی قدم اٹھاتے ہوئے ووٹنگ عمر 21 سے کم کرکے 18 سال کی تھی۔ لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور شفافیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی تشکیل اور اختیار پر سوال
منیش تیواری نے 2023 میں بنائے گئے نئے قانون پر بھی اعتراض ظاہر کیا اور کہا کہ اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ الیکشن کمیشن میں دو مزید ممبران جوڑے جائیں اور کمیشن کی تقرری کمیٹی میں حکومت کے دو نمائندے، اپوزیشن کے دو نمائندے اور ایک چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل کیا جائے تاکہ عمل زیادہ شفاف ہو۔
ایس آئی آر پر شدید اعتراض: ’قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں‘
ایس آئی آر یعنی ووٹر لسٹ کے خصوصی نظر ثانی پر بات کرتے ہوئے تیواری نے کہا کہ کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کیا جا رہا ہے، لیکن نہ آئین میں اور نہ قانون میں ایسی کسی کارروائی کی اجازت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ “الیکشن کمیشن اسے سیکشن 21 کے تحت اپنا اختیار بتا رہا ہے، لیکن پورا سیکشن پڑھنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ ایس آئی آر کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے”۔
’ووٹنگ لسٹ میں خامی ہو تو وجہ درج کی جائے‘
انہوں نے کہا کہ اگر کسی حلقے میں ووٹر لسٹ میں خامی ہے تو اسے درست کرنے کے لیے تحریری بنیاد پر بتانا ضروری ہے کہ ایس آئی آر کی ضرورت کیوں پڑی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایوان میں یہ واضح کرے کہ کن حلقوں میں کون سی غلطیاں ملیں؟ اور ایس آئی آر کی ضرورت کس بنیاد پر محسوس ہوئی؟ لوک سبھا میں یہ بحث فی الحال جاری ہے اور مختلف جماعتوں کے اراکین اپنے اپنے نکات ایوان کے سامنے رکھ رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


