نئی دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، لودھی روڈ میں 26 نومبر کو ’بزمِ صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کانکلیو کا شاندار اور تاریخی انعقاد کیا گیا۔ اس کانکلیو کا افتتاح دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کیا۔ ریکھا گپتا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ آرٹ، کلچر اینڈ لینگوئجز کے وزیر کپل مشرا بطور مہمان اعزازی شامل ہوئے۔ اس سیشن کی صدارت بھارت ایکسپریس کے چیئرمین، سی ایم ڈی اور ایڈیٹر ان چیف اپیندر رائے نے کی۔ سیاسی، ثقافتی و ادبی اعتبار سے یہ پروگرام نہایت اہم ثابت ہوا، جس میں ملک بھر سے سیکڑوں کی تعداد میں اردو زبان کے چاہنے والے، ادیب، اسکالرز، صحافی اور طلبہ شریک ہوئے۔
’ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا کردار‘
اس موقع پر معروف صحافی اور آل انڈیا ریڈیوکی نیوز ریڈر نیتیکا تیاگی نے ’ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو صحافت کا کردار‘ کے موضوع پر گفتگو کی ۔موضوع کی مناسبت سے انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز اردو صحافت کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو صحافت اپنے 200 سال مکمل کر چکی ہے۔ اورسال 1822 میں جامع جہاں نما کی اشاعت سے لیکر آج کے ڈجیٹل کاپیوں کاجو یہ زمانہ ہے اب تک اردو زبان نے بہت سے سنگ میل عبور کیے ہیں۔ اردو صحافت اور اردو زبان نے ہمیشہ سے ایک دوسرے کی خدمت کی ہے۔اردو صحافت کی شروعات سے ہی جتنی بھی حکومتوں کی جابرانہ پالیسیاں رہی ہیں ان پر اردو صحافت نے سخت تنقید کی ہے اور ملک میں صحافت کے شعبے میں سب سے پہلی قربانی بھی ایک اردو صحافی نے ہی دی تھی۔ مولوی محمد باقر وہ پہلے صحافی تھے جو ملک کے لیے شہید ہوئے تھے۔ نیتیکا تیاگی نے مجاہد آزادی اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے اپنے اردو اخبار وں الہلال اور البلاغ کےذریعہ انگریزی حکومت کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا تھا ۔ اس کے علاوہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ دینے والی شخصیت جن کو ہم مولانا حسرت موہانی کے نام سے جانتے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی تحریروں کے ذریعہ جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اردو اخبار قومی آواز شروع کیا تھا۔ اس کے علاوہ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے اپنے ہندی ہفت روزہ ہری جن سیوک کا اردو ایڈیشن بھی شروع کیا تھا۔
موجودہ دور میں اردو صحافت
اس موقع پر نیتیکا تیاگی نے آزاد بھارت کے بعد سے موجودہ دور تک کا ذکر کرتے ہوئے کہ انہوں نے کہا کہ جب ہمارا ملک آزاد ہو گیا تو اس کے بعد سےہی اردو صحافت نے سیکیولر اقدار کو ہی فروغ دیا اور ساتھ ہی مشرکہ تہذیب کی بھی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ نیتیکا نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ صحافت کا دوسرا مقصد ہوتا ہے کہ لوگوں کو تعلیم یافتہ کیا جائے۔ اس سمت میں اردو صحافت نے کافی اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ہم آہندگی کو فروغ دینے میں بھی اردو صحافت پیش پیش رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ کانکلیو بھارت ایکسپریس اردو کی جانب سے اوراُردو اکادمی دہلی (فن و ثقافت اور زبان، دہلی حکومت) کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ پروگرام کے افتتاحی سیشن میں بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے سی ایم ڈی اُپیندر رائے نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کا شکریہ ادا کیا۔ پورا کانکلیو صبح 10 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہا اور اس میں متعدد سیشنز منعقد کیے گے۔اس میں دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، وزیر کپل مشرا، شاہنواز حسین سمیت کئی وزرا اور اعلیٰ لیڈران کے ساتھ بڑی شخصیات نے شرکت کی۔ اُردو کو فروغ دینے کے لیے منعقد یہ منفرد پروگرام کافی سراہا جا رہا ہے۔
پروگرام کہاں دیکھ سکتے ہیں؟
آپ ہمارے یوٹیوب چینل، تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹ اور ایپ پر بھی ہر خبر سے آشنا ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


