Urdu Conclave 2026

Government Implements Four New Labour Codes : ملک میں چار نئے لیبر کوڈ نافذ، وقت پر تنخواہ، تقرری نامہ، تحفظ اور مرد و خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت دینا لازمی

مرکزی حکومت نے ملک میں 21 نومبر 2025 سے چار بڑے لیبر کوڈز نافذ کرنے کا تاریخی اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام ملازمین کو تقرری نامہ دینا لازمی ہوگا، وقت پر تنخواہ ملے گی اور مرد و خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ملک میں 21 نومبر 2025 سے چار بڑے لیبر کوڈز نافذ کرنے کا تاریخی اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام ملازمین کو تقرری نامہ دینا لازمی ہوگا، وقت پر تنخواہ ملے گی اور مرد و خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت کا تحفظ حاصل ہوگا۔ حکومت نے جمعہ (20 نومبر) کو اعلان کیا کہ ویج کوڈ 2019، انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020، سوشل سکیورٹی کوڈ 2020 اور آکیوپیشنل سیفٹی، ہیلتھ اینڈ ورکنگ کنڈیشنز کوڈ 2020 کو 21 نومبر 2025 سے نافذ کیا جائے گا۔ یہ نئے قوانین 29 پرانے لیبر قوانین کی جگہ لیں گے۔

تمام ملازمین کے لیے تقرری نامہ لازمی
نئے اصلاحات کے مطابق اب ہر ملازم کو نوکری شروع کرتے وقت تقرری نامہ دینا لازمی ہوگا، جس سے شفافیت اور روزگار کی ضمانت بڑھے گی۔ تحریری ثبوت ہونے سے ملازمین کو اپنے حقوق کے دفاع میں آسانی ہوگی اور مستقل روزگار کا تحفظ بھی مضبوط ہوگا۔

سوشل سکیورٹی کا دائرہ وسیع
سوشل سکیورٹی کوڈ کے تحت تمام ملازمین کو پی ایف، ای ایس آئی سی، بیمہ اور دیگر سماجی تحفظات فراہم کیے جائیں گے۔ ایگری گیٹر کمپنیوں کو ٹرن اوور کا 1 سے 2 فیصد حصہ ان ملازمین کی فلاح کے فنڈ میں دینا ہوگا۔

بنیادی اجرت اور وقت پر تنخواہ
ویجز کوڈ 2019 کے تحت ہر ملازمین کو قانونی طور پر کم از کم اجرت ملنے کا حق دیا گیا ہے۔ ہر کام کے لیے وقت پر تنخواہ دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس شعبوں کے ملازمین کے لیے تنخواہ ہر ماہ کی 7 تاریخ تک ادا کرنا لازم ہوگی۔

40 سال سے زائد عمر کے ملازمین کے لیے سالانہ مفت طبی معائنہ
کسی بھی ادارے میں کام کرنے والے 40 سال سے زائد عمر کے ملازمین کے لیے سالانہ مفت میڈیکل چیک اپ کرانا کمپنی کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام صحت مند ورک فورس کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خواتین کا تحفظ اور مساوی حقوق
نئے لیبر کوڈ کے تحت خواتین اور مردوں کو مساوی کام کے لیے مساوی اجرت دینا لازمی کیا گیا ہے۔ خواتین کو رات کی شفٹ میں کام کی اجازت ہوگی بشرطیکہ ان کی رضامندی اور ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ شکایتی کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے۔

فکسڈ ٹرم ملازمین (ایف ٹی ای) کو مستقل ملازمین جیسی سہولیات
اب فکسڈ ٹرم ملازمین کو بھی مستقل ملازمین کی طرح چھٹی، میڈیکل اور سماجی تحفظ ملے گا۔ ایک سال کے بعد انہیں گریچویٹی کا حق حاصل ہو جائے گا۔ کمپلائنس کا بوجھ کم، کاروباری اداروں کی سہولت کے لیے سنگل رجسٹریشن، پین انڈیا سنگل لائسنس، سنگل ریٹرن سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔

محفوظ اور منظم ورک اسٹرکچر کی بنیاد
خطرناک صنعتوں میں کام کرنے والے ایک ملازم والے اداروں میں بھی ای ایس آئی سی لازمی ہوگا، جبکہ 10 سے کم ملازمین کے اداروں میں یہ اختیاری ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام مستقبل کے مطابق تیار ورک فورس اور مضبوط انڈسٹریل اسٹرکچر کی بنیاد رکھتا ہے، جو آتم نربھر بھارت کے وژن کو تقویت دے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read