Bharat Express DD Free Dish

Labour law

پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت، صنعتی تعلقات، سماجی تحفظ اور کارکنوں کی حفاظت پر تفصیلی گفتگو؛ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تال میل پر زور

مرکزی حکومت نے چار نئے لیبر کوڈز نافذ کیے ہیں، جن میں اجرت، سماجی تحفظ، صنعتی تعلقات اور پیشہ ورانہ تحفظ سے متعلق قوانین شامل ہیں۔

نئے لیبر کوڈ 2026 کے تحت اب ملازمین ہر سال اپنی بچی ہوئی چھٹیوں کے بدلے رقم حاصل کر سکیں گے۔ 180 دن کی سروس مکمل ہونے کے بعد ہی چھٹیوں کا حق ملے گا اور سیٹلمنٹ 48 گھنٹوں کے اندر کیا جائے گا۔

اننت گوئنکا نے انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور لیبر قوانین میں ہونی والی اصلاحات کو حکومت کا مثبت قدم قرار دیا، مگر ساتھ ہی توانائی اور زمین سے متعلق ریفارمز پر مزید کام کی ضرورت پر زور دیا۔

ماضی میں خواتین کو رات کی شفٹ میں کام کرنے سے روکا جاتا تھا، جس کی وجہ تحفظات اور سماجی عوامل تھے۔ اس سے خواتین کئی ایسے سیکٹرز سے باہر رہ جاتی تھیں ،جو 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ جیسے آئی ٹی، صحت، مینوفیکچرنگ، اور ہوٹل انڈسٹری۔

حکومت نے محنت قوانین میں اصلاح کرتے ہوئے گریچوٹی کے قواعد تبدیل کیے ہیں۔ اب ملازمین کو 5 سال انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ صرف ایک سال نوکری کرنے پر بھی گریچوٹی کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی حکومت نے ملک میں 21 نومبر 2025 سے چار بڑے لیبر کوڈز نافذ کرنے کا تاریخی اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام ملازمین کو تقرری نامہ دینا لازمی ہوگا، وقت پر تنخواہ ملے گی اور مرد و خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان میں کام کے اوقات کو بڑھا کر 70-90 گھنٹے فی ہفتہ کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق اور موجودہ لیبر قوانین کو ترجیح دے گی۔