حکومت نے جمعہ کو مزدور قوانین میں بڑے اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزارتِ محنت نے پرانے 29 محنتی قوانین کو یکجا کرکے اب صرف 4 کوڈ بنا دیے ہیں۔ ان نئے کوڈز کا مقصد ملک کے تمام مزدوروں کو، چاہے وہ غیر رسمی شعبے میں ہوں، گگ ورکر زہوں،مہاجر مزدور ہوں یا پھر خواتین، سب کو بہتر تنخواہ، سماجی تحفظ اور صحت و سلامتی فراہم کرنا ہے۔
اہم تبدیلی کیا ہے؟
سب سے اہم تبدیلی گریچوٹی سے متعلق ہے۔ اب ملازمین کو گریچوٹی حاصل کرنے کے لیے 5 سال کا انتظار نہیں کرنا ہوگا۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ فکسڈ ٹرم ایمپلائز (FTE) صرف 1 سال کام کرنے کے بعد گریچوٹی کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ یعنی اگر کوئی ملازم کسی کمپنی میں ایک سال تک کام کرتا ہے تو کمپنی چھوڑنے یا ریٹائر ہونے پر اسے گریچوٹی کی رقم ملے گی۔
برابر تمام سہولیات
نئے قوانین میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ فکسڈ ٹرم ملازمین کو مستقل ملازمین کے برابر تمام سہولیات ملیں گی۔ ان میں چھٹی، میڈیکل سہولت، سوشل سکیورٹی اور برابر تنخواہ شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد کنٹریکٹ پر کام کرنے کے طریقے کو کم کرنا اور براہِ راست بھرتی کو بڑھانا ہے۔
گریچوٹی کیا ہوتی ہے؟
گریچوٹی دراصل کمپنی کی طرف سے ملازمین کو ان کی خدمات کے بدلے دیا جانے والا ایک مالی تحفہ ہے۔ پہلے یہ سہولت صرف ان ملازمین کو ملتی تھی جنہوں نے مسلسل 5 سال تک نوکری کی ہو، لیکن اب حکومت نے اسے کم کرکے ایک سال کر دیا ہے۔ یہ ملازمین کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوگا کیونکہ کمپنی چھوڑتے وقت یا ریٹائرمنٹ پر انہیں یکمشت رقم مل جائے گی۔ ملک کی تمام فیکٹریوں، کانوں، آئل فیلڈز، بندرگاہوں اور ریلوے پر پیمنٹ اینڈ گریچوٹی ایکٹ نافذ ہوتا ہے۔ پہلے امید کی جا رہی تھی کہ حکومت 5 سال کی حد کو کم کرکے 3 سال کرے گی لیکن ملازمین کو بڑی راحت دیتے ہوئے اسے سیدھے ایک سال کر دیا گیا ہے۔
گریچوٹی کیسے کیلکولیٹ ہوتی ہے؟
گریچوٹی نکالنے کا طریقہ بہت آسان ہے۔ اس کے لیے ایک فارمولہ ہے:
(آخری تنخواہ) × (15/26) × (کمپنی میں کتنے سال کام کیا)
مثال کے طور پر: فرض کریں آپ نے کسی کمپنی میں 5 سال کام کیا ہے اور آپ کی آخری تنخواہ (بیسک پے + ڈی اے) 50,000 روپے ہے، تو حساب ہوگا:
50,000 × (15/26) × 5 = 1,44,230 روپے
یعنی کمپنی چھوڑنے یا ریٹائر ہونے پر آپ کو اتنی گریچوٹی ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
