فکی کے صدر اور آر پی جی گروپ کے وائس چیئرمین اننت گوئنکا نے کہا ہے کہ چار لیبر کوڈز کا نفاذ، جن کے تحت 29 پرانے قوانین کو یکجا کیا گیا ہے، بھارتی صنعت اور ورک فورس دونوں کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے ان کوڈز کو “صنعت اور مزدوروں کے لئے بہترین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کمپلائنس آسان ہوگا، ورک فورس کی مائیگریشن بہتر ہوگی، سیکورٹی میں اضافہ ہوگا، ریٹائرمنٹ بینیفٹس مضبوط ہوں گے اور خواتین کیلئے نائٹ شفٹس میں کام کرنے کے مواقع بڑھیں گے۔
گوئنکا نے کہا، “کاروبار کے لیے فائدے بہت زیادہ ہیں۔ Ease of Doing Business میں بڑا سدھار ہے اور آگے کے راستے پر بھی واضح سمت ملتی ہے۔”
نارائن مورتی کے 70 گھنٹے کام کے مشورے پر ردعمل
انفوسس کے بانی نارائن مورتی کے 70 گھنٹے ہفتہ وار کام یا چین کے 9-9-6 ماڈل پر جاری بحث کے دوران گوئنکا نے متوازن رائے دی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کیلئے سخت محنت اور طویل وقت دینا ضروری ہے، لیکن زندگی کے توازن کا احترام کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آخرکار فرد کی ذاتی امنگوں پر منحصر ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بزنس میں کامیابی کیلئے محنت ناگزیر ہے۔
مزید ریفارمز کی ضرورت
اننت گوئنکا نے انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور لیبر قوانین میں ہونی والی اصلاحات کو حکومت کا مثبت قدم قرار دیا، مگر ساتھ ہی توانائی اور زمین سے متعلق ریفارمز پر مزید کام کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، “لیبر ریفارمز پر اچھا کام ہوا ہے، مگر توانائی اور زمین پر مزید پیش رفت کی ضرورت ہے، اور ہم حکومت کے ساتھ مل کر اس سمت میں کام کرنے کے منتظر ہیں۔”
ریاستوں میں Ease of Doing Business کا فرق دور کرنے پر زور
فکی صدر نے کہا کہ جہاں مرکز نے اصلاحات کی رفتار تیز رکھی ہے، وہیں ریاستی سطح پر بھی یکسانیت اور عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے خود تصدیق (Self-Certification) جیسے اقدامات کو زیادہ ریاستوں میں نافذ کرنے کی سفارش کی۔
انہوں نے کہا، “مرکز اصلاحات کے حق میں بہت مثبت ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستوں میں بھی Ease of Doing Business کو زیادہ یکساں اور تیز بنایا جائے۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



