Urdu Conclave 2026

central government decision

جوہری ایندھن اور ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والے مخصوص آلات کے درآمدی محصولات ختم کردی گئی ہے۔ اس فیصلے سے این پی سی آئی ایل سمیت کئی اداروں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

مرکز کی مودی حکومت نے ہفتہ کے روز بتایا کہ کھاد (فرٹیلائزر) کارخانوں کو مختص کی گئی مجموعی گیس میں مزید 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے یہ ان کے چھ ماہ کے اوسط استعمال کے تقریباً 95 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ دستیاب گیس اسٹاک اور طے شدہ ایل این جی کارگو کی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ اجلاس میں 1,800 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ امیگریشن، ویزا، فارنرز رجسٹریشن اینڈ ٹریکنگ (آئی وی ایف آر ٹی) اسکیم کو 31 مارچ 2026 کے بعد مزید پانچ سال کے لیے جاری رکھنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ اسکیم یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031 تک نافذ رہے گی۔

بھارت میں لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھ کر 800 سے زائد ہو جائیں گی، جن میں سے 273 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ خواتین کے لیے یہ ریزرویشن امکان ہے کہ 2029 سے نافذ کیا جائے گا۔ حکومت یہ بل 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر پیش کرے گی۔

مرکزی حکومت نے اپنے فیصلے میں راج بھون کے نام کو تبدیل کرکے لوک بھون کردیا ہے۔ نام کی تبدیلی محض رسم نہیں بلکہ نظریاتی پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔ مودی سرکار کے 11 سالہ دور حکومت میں نام بدلنے کی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ اسی سلسلے کی اہم مثال دہلی کے تاریخی راج پتھ کی ہے، جس کو بدل کر ’’کرتویہ پتھ‘‘ کر دیا گیا تھا۔

مرکزی حکومت نے ملک میں 21 نومبر 2025 سے چار بڑے لیبر کوڈز نافذ کرنے کا تاریخی اعلان کیا ہے، جن کے تحت تمام ملازمین کو تقرری نامہ دینا لازمی ہوگا، وقت پر تنخواہ ملے گی اور مرد و خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انڈین سائنس انسٹی ٹیوٹ (IISC) بنگلورو اور سینٹر فار میٹیریلز فار الیکٹرانکس ٹیکنالوجی (سی-میٹ) حیدرآباد کو نیشنل کرٹیکل منرل مشن (NCMM) کے تحت سینٹر آف ایکسیلنس کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔

مالی بحران کا شکار پنجاب حکومت کی مشکلوں میں اضافہ، مرکز نے 800 کروڑ روپے کے سڑک منصوبے منسوخ کر دیے، وقت پر ٹینڈر جاری نہ کرنے اور تعمیری کام میں تاخیر کو وجہ بتایا، 64 سڑکوں اور 38 پلوں کی تعمیر متاثر، پہلے ہی 7000 کروڑ کا دیہی وکاس فنڈ روکا جا چکا ہے