کانکنی کی وزارت کی جانب سے ہفتہ کو دی گئی معلومات کے مطابق، وزارت نے انڈین سائنس انسٹی ٹیوٹ (IISC) بنگلورو اور سینٹر فار میٹیریلز فار الیکٹرانکس ٹیکنالوجی (C-MET) حیدرآباد کو نیشنل کرٹیکل منرل مشن (NCMM) کے تحت سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) کے طور پر تسلیم کیا ہے۔سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سینٹرز آف ایکسیلنس اہم معدنیات کے شعبے میں ملک کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے اختراعی اور تبدیلی لانے والی تحقیق کریں گے۔
اہم خام معدنیات ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے نہایت ضروری
اہم خام معدنیات ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ کلین انرجی اور موبیلٹی ٹرانزیشن جیسے نئے شعبوں کے لیے سپلائی چین کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایڈوانس ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، دفاع اور خلا جیسے اسٹریٹجک سیکٹرز کے لیے بھی یہ معدنیات بے حد اہم ہیں۔مرکزی حکومت نے 2025 میں نیشنل کرٹیکل منرل مشن (NCMM) کا آغاز کیا تاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک تیار کیا جا سکے۔ اس مشن کے تحت جیو لوجیکل سروے آف انڈیا (GSI) کو 2024-25 سے 2030-31 کے دوران 1,200 ایکسپلوریشن منصوبے انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ہندوستان 2070 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کی سمت بڑھ رہا ہے
ہندوستان 2070 تک نیٹ زیرو اخراج (Net-Zero Emission) کے ہدف کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ملک کا مقصد 2030 تک اپنے مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) کی اخراجی شدت کو 2005 کی سطح کے مقابلے میں 45 فیصد تک کم کرنا ہے۔ ان ماحولیاتی اہداف کو حاصل کرنے میں نیشنل کرٹیکل منرل مشن ایک مضبوط اور خود کفیل نظام قائم کر کے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ خصوصی مشن نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے، گھریلو پیداوار میں اضافہ کرنے اور کلین انرجی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری معدنیات کی مستقل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط کو منظم کرنے پر مرکوز ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

