وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے دہلی میں بجلی کنکشن سے محروم شہریوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ‘بُک پراپرٹی’ میں بجلی کنکشن دینے پر لگائی گئی پابندی کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔ شمال مشرقی دہلی سے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اس کے لیے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے ملاقات کرکے مبارکباد پیش کی۔
قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے احکامات پر سرکاری نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے 1.25 لاکھ سے زائد متاثرہ خاندانوں کو فوری فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں لیا گیا ہے۔ دہلی حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق اور ضروری خدمات کی فراہمی کو ہر حالت میں یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
MCD द्वारा booked property पर भी लगेगा बिजली मीटर.. @gupta_rekha की बीजेपी सरकार का बड़ा फैसला.. मैंने मुख्यमंत्री जी को मिलकर दी बधाई.. @bjp4delhi बधाई दिल्ली वासियों 🙏🏻 pic.twitter.com/p7pbmGZId2
— Manoj Tiwari (@ManojTiwariMP) November 18, 2025
حکم شہریوں کے بنیادی حقوق کا محافظ
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر توانائی محکمہ کے خصوصی سکریٹری نے اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے بتایا کہ بجلی محکمہ کو مسلسل عوامی شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن میں کہا گیا کہ ڈسکام (بجلی کمپنیاں) نے اس بنیاد پر بجلی کنکشن دینے سے انکار کردیا یا منقطع کردیا کہ متعلقہ پراپرٹیاں دہلی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے سبب ‘بک’ کی گئی ہیں۔ کئی معاملات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایم سی ڈی کے انہدامی احکامات کے برسوں بعد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اب دہلی میں ان پراپرٹیز کو بھی بجلی کنکشن فراہم کیا جاسکے گا جو میونسپل کارپوریشن کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کی بنیاد پر ‘بک’ کی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ برسوں سے لاکھوں لوگ ان مکانوں میں رہائش پذیر ہیں، لیکن صرف بُک پراپرٹی کی بنیاد پر انہیں بجلی کنکشن سے محروم کردیا گیا تھا، جو نہ صرف تکلیف دہ تھا بلکہ کئی علاقوں میں بجلی چوری کو فروغ دے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے۔ یہ حکم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے اور نظام کو شفاف بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



