’جن جاتیہ گورَو دیوس‘ نہ صرف ایک یادگار تہوار ہے بلکہ بھارت کے قبائلی معاشرے کی صدیوں پرانی جدوجہد، غیر متزلزل حوصلے اور خودداری کی گونج ہے، جس کی شمع عظیم مجاہد آزادی اور سماجی رہنما بھگوان بِرسا منڈا نے روشن کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قبائلی ہیروز کی اس شاندار تاریخ اور قربانیوں کو وہ قومی اعزاز ملا ہے، جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق تھے۔ چاہے جن جاتیہ گورَو دیوس کی سرکاری توثیق ہو، اکلویہ ماڈل اسکولوں کا دائرہ وسیع کرنا ہو، پی وی ٹی جی مشن شروع کرنا ہو، ون دھن کیندروں کا قیام ہو یا دور دراز علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی انقلابی تعمیر، یہ سب تبدیلی کی وہ داستانیں ہیں جو روایت کو طاقت، ثقافت کو اعزاز اور معاشرے کو خود اعتمادی میں بدلتی ہیں۔ مودی آرکائیو‘ کی جانب سے بھگوان بِرسا منڈا کی 150ویں جینتی کے موقع پر جاری کی گئی ایک خصوصی ڈائری میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قبائلی پالیسی، اُن کے ابتدائی سماجی کاموں اور قبائلی سماج کے ساتھ اُن کی غیر معمولی وابستگی کے تاریخی ادوار کو تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔ اس ڈائری میں متعدد تصاویر، ویڈیو کلپس اور تحریری دستاویزات شامل ہیں۔
’مودی آرکائیو‘ میں اس وقت کا ذکر کیا گیا ہے جب نریندر مودی بطور نوجوان پرچارک گجرات کے قبائلی علاقوں، سابڑ کانٹھا، بڑودہ اور ڈانگ میں کئی برس تک قبائلی خاندانوں کے درمیان رہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا، اُن کی زندگیوں کو قریب سے دیکھا اور اُن کے مسائل و محرومیوں کو خود محسوس کیا۔ اسی قربت نے انہیں قبائلی سماج کی ضرورتوں، چیلنجوں اور سماجی انصاف کی اہمیت کا گہرا شعور بخشا۔ ڈائری کے مطابق 1980 کی دہائی میں گجرات شدید قحط سے دوچار ہوا۔ کئی قبائلی گاؤں حکومتی امداد سے محروم تھے۔ ایسے وقت میں نریندر مودی نے قبائلی خاندانوں تک خوراک اور پانی پہنچانے کی تنظیمی کوششیں کیں۔ انہوں نے خدمتِ خلق کو رسمی تقاریب پر ترجیح دیتے ہوئے رضاکاروں سے اپیل کی کہ وہ دولت ضائع کرنے کے بجائے انسانیت کی خدمت کو ترجیح دیں۔ سِلواسا میں ونواسی کلیان آشرم کی ایک تقریب میں ان کی تقریر نے اس وقت کے صدر جیل سنگھ کو بھی بے حد متاثر کیا۔ بعد ازاں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے نئے قبائلی رہنماؤں کی تربیت کی اور 1995 میں گجرات کا پہلا قبائلی حقوق منشور جاری کیا جس میں صحت، تعلیم، رہائش اور قبائلی وقار کی بحالی پر زور دیا گیا۔ یہ اقدام اس وقت تاریخی ثابت ہوا، جب قبائلی شناخت اور حقِ خود اختیاری کے لیے مضبوط آواز ابھری۔
2001 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی قبائلی فلاح کے لیے ان کی وابستگی مضبوط تر ہوتی گئی۔ تباہ کن کَچھ زلزلے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی دیوالی چوباری نامی قبائلی گاؤں میں منائی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قبائلی علاقوں کی محرومی کو انہوں نے پرچارک کے دور میں محسوس کیا اور اب حکومت میں رہ کر انہیں حقیقی تبدیلی کا موقع ملا۔ ان کی قیادت میں ون بندھو کلیان یوجنا (2007) اور وزیر اعلیٰ کا دس نکاتی پروگرام شروع ہوا، جو بھارت میں قبائلی ترقی کی اولین مشن موڈ مہمات میں سے تھا۔ ان منصوبوں کے تحت تعلیم، صحت، آبپاشی، بجلی اور مواصلات کو دور دراز قبائلی علاقوں تک پہنچایا گیا اور اس پورے عمل کی حقیقی وقت میں نگرانی کی گئی۔
’مودی آرکائیو‘ کے مطابق وزیر اعلیٰ مودی نے تسلیم کیا کہ بہتر رسائی نہ ہونے کے باعث قبائلی نوجوان اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ “اُمارگام سے امبا جی تک بارہویں جماعت کے سائنس کے لیے ایک بھی کالج نہیں تھا”۔ اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ریاست میں ہاسٹلز، ووکیشنل کورسز، ٹیچر ٹریننگ سینٹرز اور جدید تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل میں گجرات کے قبائلی اسکولوں میں بایو گیس پلانٹ، سولر انرجی اور پانی کے تحفظ جیسے جدید موضوعات پڑھائے جاتے تھے جو اپنے وقت سے کہیں آگے کا وژن تھا۔
اسی دور میں انہوں نے فاریسٹ رائٹس ایکٹ (2006) کو مؤثر طور پر نافذ کیا اور جنوبی گجرات کے پانچ اضلاع میں قبائل کو زمینوں کے فرداً فرداً دستاویزات دی گئیں۔ اس سے ہزاروں قبائلی خاندانوں کو پہلی بار اپنی زمین پر کاشت کا قانونی حق ملا۔ اسی مہم کے دوران 22 ہزار مسترد شدہ درخواستوں پر دوبارہ جائزہ لیا گیا اور انہیں منظور کیا گیا جو انصاف کی مثال بن گیا۔ ان کے دورِ حکومت میں سڑکیں، پینے کا پانی، آبپاشی نظام اور مستقل بجلی کے منصوبوں نے دور دراز قبائلی علاقوں کو بڑے اقتصادی مراکز سے جوڑ دیا۔ ’دودھ سنجیونی یوجنا‘ (2006-07) کے ذریعے اسکولی بچوں کو غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کیا گیا، جبکہ ’چرن جیوی یوجنا‘ (2005) نے محفوظ زچگی، طبی سہولتوں، آپریشنل سپورٹ اور نوزائیدہ زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا۔ اسکل سیل انیمیا اور لیپٹو اسپائروسیس کے خلاف مہم نے بعد میں قومی اسکل سیل انیمیا مٹاؤ مشن (2023) کی بنیاد رکھی، جس کے تحت اب تک 6 کروڑ سے زائد افراد کی اسکریننگ ہو چکی ہے۔
2011 میں گجرات کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی پس منظر کے نوجوان رہنما گنپت وساوا کو ریاستی اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر مودی نے اسے “نادر اور تاریخی لمحہ” قرار دیا۔ اعظم کے طور پر انہوں نے قبائلی فریڈم فائٹر میوزیمز، جن جاتیہ گورَو دیوس اور دیگر قومی پروگراموں کے ذریعے قبائلی جدوجہد کو قومی بیانیے کا حصہ بنایا۔ انہوں نے یہ بھی یقینی بنایا کہ دروپدی مرمو بھارت کی پہلی قبائلی صدر بنیں جو حقیقی نمائندگی اور بااختیاری کا تاریخی سنگِ میل ہے۔ موڈی آرکائیو‘ کے اختتامی بیان کے مطابق: وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے قبائلی سماج کوئی سیاسی ہتھیار نہ تھا۔ وہ مانتے تھے کہ بھارت کے ہر قبائلی شہری کو عزت اور مواقع ملنے چاہئیں۔ یہ کہانی ایک ایسے لیڈر کی ہے جو قبائلی بستیوں میں رہ کر سیکھا، تباہی کے بعد تعمیر کی اور پھر پوری قوم میں لاکھوں قبائلی خاندانوں کا اعتماد بحال کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


