بین الاقوامی ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت میں ہونے والے مینز جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 2025 میں پاکستان کی جگہ نیا ملک شامل کرے گا۔ یہ عالمی ایونٹ 28 نومبر سے تمل ناڈو میں شروع ہونے والا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی ٹیم حکومت کی ہدایت پر بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔ حکومتِ پاکستان نے موجودہ سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف آئی ایچ نے ایک بیان میں کہا، ”ہم تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اطلاع دی ہے کہ ان کی ٹیم، جو ابتدائی طور پر ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکی تھی، اب شرکت نہیں کرے گی۔ پاکستان کی جگہ لینے والی ٹیم کا اعلان جلد کیا جائے گا“۔
یہ فیصلہ منتظمین کے لیے بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ ایف آئی ایچ نے پہلے ہی ٹورنامنٹ کے ڈرا (قرعہ اندازی) کو کئی ہفتے مؤخر کیا تھا تاکہ پاکستان کے فیصلے کا انتظار کیا جا سکے۔ تاہم جب کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی تو فیڈریشن نے سوئٹزرلینڈ سے آن لائن ڈرا کرایا، بجائے بھارت میں تقریب منعقد کرنے کے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان کی عدم شرکت کے بعد ایک کم درجہ بند ریزرو ٹیم کو گروپ میں شامل کیا جائے گا، جس کے پاس تیاری کے لیے محدود وقت ہوگا۔
پاکستانی حکام کا مؤقف
ایک سینیئر پی ایچ ایف عہدیدار نے کہا، ”ہم نے حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ سے مشاورت کی۔ موجودہ حالات میں بھارت جا کر کھیلنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ ایک بڑا سیکیورٹی رسک ثابت ہو سکتا ہے“۔
گروپ بی میں تبدیلی
پاکستان گروپ بی میں شامل تھا، جہاں بھارت، چلی اور سوئٹزرلینڈ بھی موجود ہیں۔ اب متبادل ٹیم کو اسی گروپ میں شامل کیا جائے گا۔ انتخاب کا فیصلہ ایف آئی ایچ رینکنگ میں دستیاب اسٹینڈ بائی ممالک کے مطابق ہوگا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے بھارت میں ہونے والا کوئی بڑا ہاکی ایونٹ چھوڑا ہو۔ اس سے قبل بھی راجگیر (بہار) میں ہونے والے ایشیا کپ سے پاکستان نے دستبرداری اختیار کی تھی، جس میں بنگلہ دیش نے اس کی جگہ لی تھی۔ اس فیصلے کے باعث پاکستان اگلے عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی کرنے کا موقع بھی کھو بیٹھا تھا۔
-بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
