Bharat Express DD Free Dish

سپریم کورٹ نے دہلی پوپلیس سے مانگا جواب، عمرخالد اورشریل امام کی ضمانت عرضی پر7 اکتوبرکوہوگی سماعت

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔

دہلی فسادات کیس: عمر خالد کی نظرثانی عرضی خارج، سپریم کورٹ سے بھی نہیں ملی راحت

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے فروری 2020 میں دہلی میں ہوئے فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے معاملے میں کارکنان عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی عرضیوں پرآج سماعت کی۔ دہلی فسادات میں سازش کرنے سے متعلق الزامات کا سامنا کررہے ملزمان عمرخالد، شرجیل امام اورباقی ملزمین کی ضمانت عرضی پرسپریم کورٹ نے دہلی پولیس کونوٹس جاری کیا ہے۔ اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 7 اکتوبر، 2025 کوہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو دیا تھا چیلنج

تمام ملزمین نے دوستمبرکے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج دیا ہے، جس میں عمرخالد اورشرجیل امام سمیت 9 لوگوں کو ضمانت دینے سے انکارکردیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ احتجاج کی آڑمیں سازشی تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عمرخالد اورشرجیل امام کے علاوہ جن کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہوئیں، ان میں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان، شفاء الرحمٰن، اطہرخان، عبدالخالد سیفی اورشاداب احمد شامل ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ نے خارج کردی تھی عرضی

آپ کو بتا دیں کہ اس کے علاوہ 2 ستمبرکوایک دیگرملزم تسلیم احمد کی ضمانت عرضی بھی ہائی کورٹ کی ایک الگ بینچ نے خارج کردی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آئین شہریوں کو احتجاجی مظاہرہ کرنے کا احتجاج کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ وہ منظم اورپرامن ہونا چاہئے۔ ساتھ ہی مظاہرین کو ہتھیاروں کے بغیررہنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد میں مصروف ہوئی جمعیۃ علماء، مولانا ارشد مدنی نے مذہب سے متعلق کہی یہ بڑی بات

دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ پرامن احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لینے اورعوامی جلسوں میں تقریرکرنے کا اختیارآرٹیکل 19 (1) (اے) کے تحت محفوظ ہے اوراسے واضح طورپرمحدود نہیں کیا جاسکتا ہے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ حقوق معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ سپریم کورٹ میں ان کی ضمانت عرضیوں پرکیا فیصلہ آتا ہے، اس فیصلے کو جاننے کے لئے ابھی 15 دنوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read