Bharat Express DD Free Dish

Delhi Riots 2020

 آئی بی آفیسرانکت شرما کا قتل فروری 2020 میں شامل مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران ہوا تھا۔ اس معاملے میں عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین سمیت 5 افراد کو قصور وار قرار دیا ہے۔ جبکہ 6 افراد کو بری کردیا۔

سپریم کورٹ نے 2020 کے فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں دیگر پانچ ملزمان، گل فشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی تھی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے تسلیم احمد اور خالد سیفی کو چھ ماہ کی عبوری ضمانت بھی دی ہے۔

دہلی کی کڑکڑ ڈوما کورٹ نے عمرخالد کی 15 دنوں کی عبوری ضمانت کی عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ عمرخالد نے ماں کی دیکھ بھال کے لئے عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر واجپئی نے عمر خالد کی 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

عشرت جہاں کو 26 فروری 2020 کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ 14 مارچ 2022 کو دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ دہلی پولیس نے اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کا حکم قانونی اصولوں کے منافی اور کئی خامیوں پر مبنی ہے۔

سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ایک مسلم نوجوان کی پولیس تشدد سے ہوئی موت کے معاملے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اس کیس میں دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق سازش کے ایک معاملے میں ملزم خالد سیفی کو عدالت نے عبوری ضمانت دے دی ہے۔ یہ ضمانت انہیں خاندانی تقریب میں شرکت کے لیے دی گئی ہے۔

شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ اور شفاءالرحمٰن پر دہلی فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کے لئے دہشت گردی مخالف قانون یواے پی اے اور آئی پی سی کے التزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز شمال مشرقی دہلی فسادات 2020سے متعلق درج ایف آئی آرپر ہوئی تفتیش کی تازہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 21 نومبر مقرر کی ہے اور پولیس کے وکیل دھرو پانڈے سے تمام ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔