Bharat Express DD Free Dish

امریکی ٹیرف اورملک کی مختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پرجماعت اسلامی جماعت کا تشویش کا اظہار، سید سعادت اللہ حسینی نے کیا یہ بڑا مطالبہ

جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اورمہاراشٹر کی پوری بستیاں بہہ گئیں۔ کسانوں کی سینکڑوں کروڑ کی کھیتیاں تباہ ہوئیں، خاندان بے گھر ہوگئے اور بنیادی سہولتیں بیٹھ گئیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں نے اس آفت کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر میں میں ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی اور ساتھ میں نائب امیر انجیئر سلیم اور میڈیا سکریٹری محمد سلمان۔

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے امریکی ٹیرف کے بھارتی برآمدات پرپڑنے والے منفی اثرات اورملک بھر میں سیلاب وقدرتی آفات سے ہونے والی وسیع تباہی پراپنی شدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے جماعت کے ہیڈکوارٹرمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے سامنے موجود سنگین اقتصادی اورانسانی چیلنجزکواجاگرکیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
امریکی ٹیرف پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ بھارتی برآمدات پر ٹیرف میں 50 فیصد تک کا اضافہ محنت پر مبنی شعبوں کو بری طرح مفلوج کر رہا ہے۔ سورت کی ہیروں کی کٹنگ یونٹس، اتر پردیش کے قالین مراکزاورتروپورکے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ مزدورروزگار کے سنگین خطرات سے دوچارہیں۔ 2,500 کروڑروپے سے زیادہ مالیت کے قالین گوداموں میں پھنسے ہیں اور ہزاروں چھوٹے کاروباربند ہوگئے ہیں۔ صرف رواں مالی سال میں ہی 35,000 سے زیادہ ایم ایس ایم ای (MSMEs) بند ہو گئے۔ یہ صورت حال بحران کی شدت کوظاہرکرتی ہے۔ انہوں نے ٹیرف کوغیرمنصفانہ اورپروٹیکشنسٹ قراردیتے ہوئے حکومت سے مضبوط سفارتی اور اقتصادی جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی 25,000 کروڑ روپے کے ریلیف پیکیج، قرضوں اورسبسڈی کے ذریعہ تعاون اورایم ایس ایم ای کی ملازمتوں کے تحفظ اوربرآمدی منڈیوں کی تنوع کاری کے لیے فوری اقدامات پرزوردیا۔

سیلاب متاثرہ علاقوں سے متعلق تشویش کا اظہار

سیلاب پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیرسید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ پنجاب، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اورمہاراشٹر کی پوری بستیاں بہہ گئیں۔ کسانوں کی سینکڑوں کروڑ کی کھیتیاں تباہ ہوئیں، خاندان بے گھر ہو گئے اوربنیادی سہولتیں بیٹھ گئیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں پائی جانے والی بدعنوانیوں نے اس آفت کواوربھی سنگین بنا دیا ہے۔ سیلاب روکنے والے باندھ پہلے ہی امتحان میں ٹوٹ گئے۔ پانی نکاسی کا نظام درہم برہم ہوکررہ گیا۔ ناقص معیارکی وجہ سے سڑکیں اور پل گرگئے۔ بدعنوانیوں نے قدرتی آفات کوایک بڑے انسانی المیہ میں تبدیل کر دیا۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کسانوں کوکم ازکم فی ایکڑ50,000 روپے کا منصفانہ معاوضہ دینے، سیلاب کی نکاسی اورفلڈ کنٹرول سسٹمزکی قومی سطح پر اپ گریڈیشن اورتمام انفراسٹرکچرپرسخت کوالٹی چیکس کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بائنڈنگ ڈیزاسٹر ریلیف قانون بنایا جائے تاکہ غیراستعمال شدہ فنڈز کو بحالی اور طویل مدتی تعمیر نو کے لیے فوری استعمال کیا جا سکے۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر نے اس بات پرزوردیا کہ دونوں مسائل حکومت کی گہری ناکامیوں کو ظاہرکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی انصاف اور شفاف حکمرانی اختیاری نہیں بلکہ ناگزیرہیں۔ مزدوراورکسان ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے مسائل کونظراندازکرنا لاکھوں لوگوں کوغربت کی جانب دھکیل دینے کے مترادف ہے۔ مزدوروں اورکسانوں کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ ان کا حق اورریاست کی ذمہ داری ہے۔

دہلی فسادات 2020 کے ملزمین کو ضمانت نہ دیئے جانے پراٹھایا سوال

اس پریس کانفرنس کو جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے آسام میں جاری انخلا مہم اور2020 کے دہلی فسادات سازش کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے ضمانت نہ دئے جانے کے فیصلے پرتشویش ظاہرکی۔ آسام کے بارے میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ پچھلے تین مہینوں میں صرف گوالپاڑا میں ہی 1,700 سے زیادہ خاندانوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی کے پاس زمین کے درست کاغذات، این آرسی ریکارڈزاورووٹرآئی ڈی تھے۔ اس کے باوجود ان کے مکانات، اسکول اور مسجدوں کو مسمارکردیا گیا۔ شکورعلی نام کا نوجوان اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب پولیس نے مقامی باشندوں پر فائرنگ کی۔پولیس کی یہ جارحیت ناقابل قبول ہے۔ بحالی کے بغیرانخلا آئین اوربین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی سخت خلاف ورزی ہے۔ کچھ معاملات میں توعدالت کے اسٹے آرڈرزتک کونظراندازکردیا گیا۔

بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جانا نا انصافی: انجینئرسلیم

پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ بنگالی بولنے والی مسلم آبادی اورقبائلی گروہوں کواس طرح نشانہ بنانا شدید ناانصافی ہے اورلسانی وفرقہ وارانہ کشیدگی کوبڑھاوا دینا ہے۔انہوں نے انخلا مہم کو فوری طورپرروکنے، پولیس فائرنگ کی آزادانہ انکوائری اورتمام بے گھرخاندانوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ پروفیسرسلیم انجینئرنے 2 ستمبرکے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی تبصرہ کیا جس میں عمرخالد، شرجیل امام اوردیگرکی ضمانت درخواست مسترد کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارکنان تقریباً پانچ سال سے بغیر مقدمہ کے جیل میں بند ہیں۔ دراصل یہ حکومت کی طرف سے دی جا رہی سزا ہے۔ قانون میں ضمانت اصول ہے، استثنا نہیں۔ عدالت نے محض بادی النظرمواد پرانحصارکیا اور واٹس ایپ گروپ کی رکنیت کو سازش کے طورپرلیا۔ یہ عمل طلبہ کارکنوں وسول سوسائٹی کے افراد کے خلاف یواے پی اے کے غلط استعمال کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ یہ امتیازی رویہ عدلیہ پراعتماد کومجروح کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فیصلے جمہوری اختلاف اوراقلیتی آوازوں کوخاموش کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب فسادات کے اصل مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔ پروفیسر سلیم انجینئرنے امید ظاہرکی کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ مداخلت کرے گا، منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنائے گا اورجمہوری آزادیوں کا تحفظ کرے گا۔ انہوں نے زور دے کرکہا کہ بھارت کی جمہوریت مساوات، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اورغیرجانبدارعدالتی نظام پر منحصر ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read