ٹوکیو — جاپان میں ہندوستان کے سفیر سبی جارج نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے جاپان دورے کے دوران متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط ہوں گی اور اہم نتائج پر مشتمل دستاویزات جاری کی جائیں گی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو آئندہ 10 سال کے لیے نئی رفتار فراہم کرے گا، جو سیاسی، معاشی اور عوامی روابط کی مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔
15واں سالانہ سربراہی اجلاس
وزیراعظم مودی 29 اور 30 اگست کو جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کی دعوت پر جاپان جائیں گے۔ یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب ایشیبا وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی بار مودی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما اس موقع پر اسٹریٹجک شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر بات کریں گے۔
ماضی کی ملاقاتیں اور تعلقات کی بنیاد
سبی جارج نے یاد دلایا کہ دونوں رہنما اس سے قبل دو مواقع پر مل چکے ہیں — لاؤس سمٹ اور کینیڈا میں جی 7 اجلاس کے دوران۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں مودی اور اس وقت کے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کے درمیان ’’خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری‘‘ قائم کرنے کا معاہدہ طے پایا، جس پر گزشتہ 10 برس میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی کا خصوصی سال
سفیر کے مطابق 2025 کو ’’ہند-جاپان سال برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعی تبادلے‘‘ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس دوران دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی اور عوامی روابط سمیت ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیا ہے۔
کوآڈ گروپ اور انڈو-پیسفک خطہ
سبی جارج نے کہا کہ ہند-جاپان شراکت داری دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ کثیرجہتی فریم ورک میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر کوآڈ گروپ (ہند، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ) کے ذریعے، جس کا مقصد انڈو-پیسفک خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
دورے کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لینے اور آئندہ دہائی کے لیے ایک نیا روڈ میپ تیار کرنے کا بہترین موقع ہے، جس سے ہند-جاپان تعلقات ایک بلند ترین سطح پر پہنچ سکیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

