Urdu Conclave 2026

Modi Japan visit

وزیر اعظم مودی نے جاپان کے دو سابق وزرائے اعظم — یوشی ہیدے سوگا اور فومیو کشیدا — سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت-جاپان تعلقات کسی ایک رہنما یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد ہے۔

مودی نے جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے ساتھ ملاقات کے دوران ایسے پروگراموں کا اعلان کیا جو تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی، اور روزگار سے وابستہ ہیں۔

یہ منصوبہ 2017 میں اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق جاپان بھارت کو E3 اور E5 ماڈل کی دو بلیٹ ٹرینیں تحفے میں دے گا۔

پی ایم مودی نے اس ملاقات کی چند تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیں۔ پی ایم مودی نے لکھا:"اسپیکر فوکوشیرو نوکاگا اور جاپانی اراکین پارلیمنٹ کے ایک گروپ کے ساتھ میری ایک شاندار ملاقات ہوئی۔

پی ایم مودی نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں نے بھارت میں 40 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، اور صرف گزشتہ دو سالوں میں 13 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

پی ایم مودی نے مزید لکھا:"بھارت اور جاپان کے گہرے اقتصادی تعلقات پر بات کی، اور ان شعبوں کی نشاندہی بھی کی جہاں آنے والے برسوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے —

جاپانی ایوان صنعت و تجارت اور ہند-جاپان دوستی فورم میں بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی پر گفتگو ہوئی۔ گجرات نے خود کو بھارت میں جاپان کے ترقیاتی شراکت داری کے لیے قدرتی داخلی دروازے کے طور پر پیش کیا۔

پی ایم مودی اس دورے کے دوران جاپان میں منعقد ہونے والے شراکت داری اجلاس (Summit) میں شرکت کریں گے، جو 29 اور 30 اگست کو ٹوکیو میں منعقد ہو رہا ہے۔ روانگی سے قبل پی ایم مودی نے اپنے بیان میں کہا:"میرا یہ دورہ بھارت کے مفادات کو فروغ دے گا، اور عالمی امن و باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔"

یہ منظر نہ صرف ثقافتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ بھارت اور جاپان کے دیرینہ تعلقات کی گہرائی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ایم  مودی نے ہوٹل میں موجود بھارتی نژاد افراد سے ملاقات کی، ان کا حال احوال دریافت کیا اور بھارت کے عالمی کردار پر بات چیت کی۔

یہ سربراہی اجلاس اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لینے اور آئندہ دہائی کے لیے ایک نیا روڈ میپ تیار کرنے کا بہترین موقع ہے، جس سے ہند-جاپان تعلقات ایک بلند ترین سطح پر پہنچ سکیں گے۔