Bharat Express DD Free Dish

Narendra Modi’s 2007 visit to Japan:نریندر مودی کا 2007 کا جاپان دورہ، گجرات کو عالمی صنعتی نقشے پر لانے کی پہلی کوشش

جاپانی ایوان صنعت و تجارت اور ہند-جاپان دوستی فورم میں بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی پر گفتگو ہوئی۔ گجرات نے خود کو بھارت میں جاپان کے ترقیاتی شراکت داری کے لیے قدرتی داخلی دروازے کے طور پر پیش کیا۔

اپریل 2007 میں نریندر مودی نے بطور وزیراعلیٰ گجرات جاپان کی سرزمین پر قدم رکھا۔ ان کے ساتھ 40 رکنی وفد بھی تھا، جس میں سرکاری افسران اور صنعت کار شامل تھے۔ اس دورے کا مقصد واضح تھا — گجرات کو، اور اس کے ذریعے بھارت کو، صنعت، انفراسٹرکچر اور جدت طرازی کا عالمی مرکز بنانا۔

چھ روزہ اس دورے کے دوران، جو ٹوکیو، اوساکا، ہیروشیما اور کوبے تک پھیلا ہوا تھا، وزیراعلیٰ مودی نے جاپان کی معروف کاروباری کمپنیوں جیسے مٹسوبشی، مٹسوئی، سومیتومو، ماروبینی، سوزوکی، توشیبا، نیپون اسٹیل، نسان اسٹیل، یونیدو اور تسونیشی شپ بلڈنگ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے جاپان ایکسٹرنل ٹریڈ آرگنائزیشن (JETRO) اور گجرات کے محکمہ صنعت کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کرائے۔

جاپانی ایوان صنعت و تجارت اور ہند-جاپان دوستی فورم میں بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی پر گفتگو ہوئی۔ گجرات نے خود کو بھارت میں جاپان کے ترقیاتی شراکت داری کے لیے قدرتی داخلی دروازے کے طور پر پیش کیا۔

اس سفر کے دوران نریندر مودی نے جاپانی وزیراعظم شنزو آبے سے بھی ملاقات کی اور دہلی-ممبئی انڈسٹریل کوریڈور (DMIC) پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعلیٰ مودی نے شنزو آبے کو گجرات کے بدھ مت ورثے پر مبنی ایک سی ڈی اور ہاتھ سے بُنا ہوا قبائلی شال تحفے میں دیا، اور انہیں گجرات آنے کی دعوت بھی دی۔ جواباً آبے نے گجرات کے DMIC منصوبے میں جاپان کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read