بہارمیں ووٹرلسٹ پرنظرثانی معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کواس کے اس قدم پرراحت تودی، لیکن سوال بھی اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹرلسٹ میں غیرشہریوں کے نام نہ رہ جائیں، یہ یقینی بنانے کے لئے ایک گہرے عمل کے ذریعہ ووٹرلسٹ کوصاف کرنے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، لیکن اگرآپ مجوزہ الیکشن سے کچھ ماہ پہلے ہی یہ فیصلہ لیتے ہیں توکیا مانا جائے۔
سپریم کورٹ بہارمیں ووٹرلسٹ کے خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائردرخواستوں کی سماعت کررہی ہے۔ جسٹس سدھانشودھولیا اورجسٹس جائے مالیہ باغچی کی بینچ اس درخواست کی سماعت کررہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سینئروکیل راکیش دویدی پیش ہوئے۔ راجیش دویدی کے علاوہ سینئروکیل کے کے وینوگوپال اورمنیندرسنگھ بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے پیروی کی۔
سینئروکیل گوپال شنکرنارائنن نے عرضی گزارکی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ ووٹرلسٹوں پرنظرثانی کی اجازت عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طورپرایس آئی آرکے تحت تقریباً 7.9 کروڑشہریوں کا احاطہ کیا جائے گا اور یہاں تک کہ ووٹرآئی ڈی اورآدھارکارڈ پربھی غورنہیں کیا جا رہا ہے۔
داخل کی گئی ہیں 10 سے زیادہ عرضیاں
سپریم کورٹ میں اس معاملے کے سلسلے میں 10 سے زیادہ درخواستیں دائرکی گئی ہیں، جن میں مرکزی درخواست گزارغیرسرکاری تنظیم ایسوسی ایشن فارڈیموکریٹک ریفارمزہے۔ آرجے ڈی ایم پی منوج جھا اورترنمول کانگریس ایم پی مہوا موئترا کے علاوہ کانگریس کے کے سی وینوگوپال، شرد پوارکی این سی پی سے سپریا سولے، سی پی آئی سے ڈی راجہ، سماج وادی پارٹی سے ہریندرسنگھ ملک، شیوسینا (یوبی ٹی) سے اروند ساونت، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) سے سرفرازاحمد اورسی ایم ایل پی آئی کے دیپانکرنے مشترکہ طورپرعدالت عظمیٰ سے رابطہ کیا ہے۔ سبھی لیڈران نے بہارمیں ووٹرلسٹ پرخصوصی نظرثانی کے لئے الیکشن کمیشن کے حکم کوچیلنج کیا ہے اوراسے منسوخ کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



