Urdu Conclave 2026

How the Emergency left India’s judiciary bruised: ایمرجنسی نے بھارت کے عدالتی نظام کو کیسے نقصان پہنچایا تھا، جانئے

اس دور کی علامت بننے والا مقدمہ اے ڈی ایم جبل پور بمقابلہ شیوکانت شکلا (ہبیس کارپس کیس) تھا، جس میں سپریم کورٹ نے 4-1 کے فیصلے سے ایمرجنسی کے دوران ہبیس کارپس کے حق کو معطل رکھا، یہ کہتے ہوئے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق غیر فعال ہیں۔

25 جون 1975 کو نافذ ہونے والی ایمرجنسی نے بھارت کے جمہوری اداروں، خاص طور پر عدلیہ، پر گہرے زخم چھوڑے۔ اس 21 ماہ کی مدت کے دوران، اندرا گاندھی کی قیادت والی کانگریس حکومت نے آئینی حقوق معطل کر دیے، میڈیا پر سنسرشپ عائد کی، اور عدلیہ کی آزادی کو شدید دباؤ میں ڈالا۔ آرٹیکل 356 کے تحت صوبائی حکومتیں ختم کی گئیں، اور شہری آزادیاں سلب کر لی گئیں۔ سپریم کورٹ کے ججوں کو ایگزیکٹو کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، اور عدالتی فیصلوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس دور کی علامت بننے والا مقدمہ اے ڈی ایم جبل پور بمقابلہ شیوکانت شکلا (ہبیس کارپس کیس) تھا، جس میں سپریم کورٹ نے 4-1 کے فیصلے سے ایمرجنسی کے دوران ہبیس کارپس کے حق کو معطل رکھا، یہ کہتے ہوئے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق غیر فعال ہیں۔ اس فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور اسے ایگزیکٹو کے سامنے جھکنے والا ادارہ بنا دیا۔

عدلیہ پر سیاسی دباؤ اور ججوں کی تبدیلی

ایمرجنسی کے دوران، عدلیہ کو ایگزیکٹو کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) اے این رے کی تقرر، جو دو سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے کی گئی، سیاسی وفاداری کی وجہ سے متنازع تھی۔ ایمرجنسی سے قبل، کیشوانند بھارتی کیس (1973) میں سپریم کورٹ نے بنیادی ڈھانچے کے نظریے کو متعارف کرایا تھا، جس نے آئین کی بنیادی خصوصیات کو پارلیمنٹ کی ترمیمی طاقت سے محفوظ رکھا۔ تاہم، ایمرجنسی کے دوران، 42ویں آئینی ترمیم نے پارلیمنٹ کو لا محدود ترمیمی اختیارات دینے کی کوشش کی، جس سے عدلیہ کی آئینی نگرانی کی صلاحیت کمزور ہوئی۔ کئی ججوں کو ایگزیکٹو کے دباؤ میں فیصلے دینے پڑے، جبکہ غیر مطیع ججوں، جیسے کہ جسٹس ایچ آر کھنہ (ہبیس کارپس کیس میں واحد مخالف جج)، کو ترقی سے محروم رکھا گیا۔ اس سے عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھے۔

ہبیس کارپس کیس اور عدلیہ کی ساکھ کو نقصان

اے ڈی ایم جبل پور کیس ایمرجنسی کے دوران عدلیہ کے زوال کی سب سے بدنام مثال ہے۔ اس مقدمے میں، عدالت نے فیصلہ دیا کہ ایمرجنسی کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق، بشمول آرٹیکل 21 (حق حیات و آزادی)، معطل ہیں، اور گرفتار افراد ہبیس کارپس کی درخواست دائر نہیں کر سکتے۔ جسٹس ایچ آر کھنہ نے اپنے تاریخی اختلاف رائے میں کہا کہ بنیادی حقوق کبھی بھی مکمل طور پر معطل نہیں ہو سکتے، لیکن ان کی رائے اقلیت میں رہی۔ اس فیصلے نے سیاسی قیدیوں، صحافیوں، اور کارکنوں کے خلاف حکومتی زیادتیوں کا راستہ کھول دیا، جنہیں بغیر مقدمہ کے جیلوں میں رکھا گیا۔ اس سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد کم ہوا، اور عدالت کو ایگزیکٹو کے آلہ کار کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

ایمرجنسی کے بعد بحالی اور سبق

ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد، 1977 میں جنتا پارٹی کی حکومت نے عدلیہ کی آزادی بحال کرنے کی کوشش کی۔ 44ویں آئینی ترمیم نے ایمرجنسی کے کئی سخت اقدامات کو واپس لیا، اور عدالتوں نے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے عوامی مفاد کی درخواستوں (PILs) کو فروغ دیا۔ منیکا گاندھی کیس (1978) میں، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 21 کی تشریح کو وسعت دی، جو عدلیہ کی بحالی کا ایک سنگ میل تھا۔ تاہم، ایمرجنسی کے زخم بھارت کے جمہوری ڈھانچے پر ایک داغ کے طور پر باقی ہیں۔ یہ دور عدلیہ کے لیے ایک سبق ہے کہ اسے ہر حال میں اپنی آزادی اور آئینی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔ آج، جب بھارت ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے کی یاد مناتا ہے، یہ ضروری ہے کہ عدلیہ اپنے ماضی سے سیکھتے ہوئے جمہوریت کے ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read