Bharat Express DD Free Dish

Emergency 1975

یہ کتاب آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ایک نہایت اہم اورمتنازع دوریعنی ایمرجنسی (1975–1977) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں آئینی اداروں، شہری آزادیوں، جمہوری طرزِ حکمرانی اورانسانی حقوق پرایمرجنسی کے اثرات کا تاریخی اورفکری تجزیہ کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ " سمویدھان  ہتیہ دیوس " منانے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت، خاص طور پرکانگریس، جمہوریت اور آئین پر ویسا حملہ دوبارہ نہ کر سکے جیسا ایمرجنسی کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔

کانگریس نے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ کانگریس لیڈر جیوردھن سنگھ نے بی جے پی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کی درسی کتابوں میں بھی سیاست کر رہی ہے۔انہوں نے کہا:"بی جے پی کی واحد الیسی لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پیدا کرنا اور ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے کہا کہ ایمرجنسی سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سنجے گاندھی کے ذریعہ چلائی گئی نسبندی مہم کو 'ظلم کی مثال' قرار دیا۔

پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے 50 سال مکمل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر ہم وطنوں نے اس دور کے ظلم کو یاد کرنے اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے چوکس رہنے کے لیے ’سمویدھان ہتیہ دیوس‘ منایا۔ انہوں نے ان تمام ہیروز کو یاد کرنے پر زور دیا جنہوں نے ایمرجنسی کا بہادری سے مقابلہ کیا اور آئین کو مضبوط رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

جسٹس گجیندر گڈکر نے بعد میں اپنے خیال کا اعادہ کیا کہ زمین کے بنیادی قانون میں ترامیم کو پارٹی کمیٹی پر نہیں چھوڑنا چاہئے تھا اور یہ کہ طریقہ کار، مشورہ کے ساتھ، ماہرین کی ایک کمیٹی بن سکتی تھی جو تمام فریقین اور افراد کو سن سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ باروہ کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی نے ’جلد بازی میں کام کیا، معاملات پر آرام دہ انداز میں تبادلہ خیال کیا اور اپنی سفارشات کو بنیادی طور پر سیاسی تحفظات پر مبنی کیا‘۔

پی ایم مودی کی قیادت نے اس طرح آئینی مزاج کا ایک نیا پیمانہ طے کیا ہے، جس میں عدلیہ کے لیے فطری احترام کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور آئینی وقار کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ عدلیہ کی آزادی کا مستقل اثبات ہے۔ آج عدلیہ سر اٹھاتی ہے، سرزنش کرتی ہے، سوال کرتی ہے اور آزادی کے ساتھ فیصلے دیتی ہے۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ شیترا ٹرسٹ کے مہنت سوامی گووند دیو گری مہاراج نے ویڈیو میں بتایا کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایمرجنسی کے دوران نریندر مودی نے گروڈیشور مندر میں کئی ہفتوں تک دھیان لگایا تھا۔

وینکیا نائیڈو نے کہا، "میرے خیال میں انہیں ایمرجنسی نافذ کرنے، شہری آزادیوں پر قدغن لگانے اور پریس سنسر شپ لگانے کے لیے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔

آج ہم جس جمہوریت کو پسند کرتے ہیں وہ ان لیڈروں کی وجہ سے موجود ہے جو 50 سال پہلے لڑے تھے۔ آج ان لیڈروں کو یاد رکھنا خود ایمرجنسی کو یاد کرنے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ گاندھی خاندان اور کانگریس کے استحصال کی جتنی کہانیاں سامنے آئیں گی، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔