پاکستان کی حکومت نے گزشتہ دنوں امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کو نوبل امن ایوارڈ کیلئے نامزد کیا تھا ،حالانکہ یہ فیصلہ پاکستانی عوام کی پسند کے بالکل برعکس تھا ،اس فیصلے کے بعد سے ہی شہباز حکومت اور منیر کی قیادت پر تنقیدوں کے تیر برسائے جارہے ہیں اسی دوران امریکہ نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کردئے جس کی پاکستان نے نہ چاہتے ہوئے بھی مذمت کی۔ اب ایک دن پہلے ٹرمپ کو نوبل امن ایوارڈ دلوانے والی پاکستان کی حکومت دوسرے ہی دن ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرکے بری طرح پھنس چکی ہے،یہی وجہ ہے کہ اب پاکستانی سیاستدانوں اور ممتاز شخصیات نے حکومت سے مطالبہ کرنا شروع کردیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، کیونکہ امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی ہے۔
پاکستانی حکومت نے جمعہ (20 جون 2025) کو ایک حیران کن اعلان میں کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کو ان کی حالیہ پاک-بھارت تنازع میں امن کے لیے کوششوں کی وجہ سے اس ایوارڈ کے لیے نامزد کرے گی۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مری میں پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ کا امن کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا ہے؛ نوبل انعام کی تجویز واپس لی جانی چاہیے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی حکمران ٹرمپ کے ساتھ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حالیہ ملاقات اور دوپہر کے کھانے سے اس قدر خوش ہوئے کہ انہوں نے ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کر دی۔ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے اس فیصلے کو “سفارتی آداب کے خلاف چاپلوسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ایران پر بمباری کے احکامات سے چند گھنٹے قبل نامزدگی کا اعلان شرمناک تھا۔
سینئر صحافی ماریانا بابر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ “آج پاکستان کی ساکھ اچھی نہیں لگ رہی” اور حکومت کے ٹرمپ کی نامزدگی کے اعلان کو شیئر کیا۔ مصنفہ اور کارکن فاطمہ بھٹو نے سوال اٹھایا کہ “کیا پاکستان ٹرمپ کی نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی واپس لے گا؟” سیاسی تجزیہ کار راحیل عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “جس ٹرمپ کو مغرب والے جنگی جرائم کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان نے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو آٹھ بار ویٹو کیا، پھر بھی انہیں امن کا چیمپئن سمجھا جا رہا ہے؟” سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی شہریوں نے حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کی اور اس فیصلے کو “مسلمانوں کے ساتھ غداری” قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


