Bharat Express DD Free Dish

Nobel peace prize

نوبیل امن انعام 2026 کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس اعزاز پر اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ 7 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا میں 8 جنگوں کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس کے باوجود نوبیل کمیٹی انہیں امن انعام دینے پر غور نہیں کر رہی۔

نئی نسل کے لیے پیغام دیتے ہوئے کیلاش ستیارتھی نے کہا کہ نوجوانوں کے اندر موجود توانائی اور ایمانداری پر انہیں پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل میں یہ صلاحیت واضح طور پر نظر آتی ہے کہ وہ تشدد سے دور رہتے ہوئے سماجی تبدیلی، ناانصافی، ظلم، منافقت اور بدعنوان نظام کے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب نوجوان ان مسائل کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو ان میں موجود اخلاقی طاقت ہماری نسل کے مقابلے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر مؤثر آواز بلند کریں اور مہرنگ بلوچ سمیت دیگر بلوچ لیڈران کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

ڈونالڈ ٹرمپ ماضی میں بھی کئی بار خود کو نوبل امن انعام کا مضبوط دعوے دار قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے ابتدائی آٹھ مہینوں میں آٹھ جنگوں کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہر اس جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے جسے روکا گیا ہو۔

جمعہ کو ناروے کی نوبل کمیٹی نے وینزویلا کی خاتون ماریہ کورینہ مچاڈو کو امن کے نوبل انعام کے لیے منتخب کیا، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ناراض ہوگئے۔ انہوں نے نوبل کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کی خاتون ماریہ کورینہ مچاڈو نے ان کے اعزاز میں یہ ایوارڈ قبول کیا ہے۔

وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچادو کو اس سال کا امن کا نوبل انعام ملا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ انہیں کس کام کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے؟

ہیلری کلنٹن نے کہا: اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی اس بھیانک جنگ کا اختتام یوکرین کی جغرافیائی حیثیت میں کسی تبدیلی کے بغیر کروا سکیں، تو میں یقینی طور پر ان کا نام نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر سکتی ہوں۔

ڈنر میٹنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی بہت تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بنجامن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ کی میزبانی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے دوست ہیں اور ایک ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے نوبل امن انعام کمیٹی کو ایک سفارش نامہ بھی ناروے بھجوا دیا گیا ہے۔ تاہم، ایران کے فردو، اصفہان اور نطنز جوہری مقامات پر امریکی حملوں کے بعد اس فیصلے پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور کالم نگار رحیق عباسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی مغربی ممالک جنگی جرائم کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے، انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان نے امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔