Urdu Conclave 2026

National Council for Promotion of Urdu Language: خواتین کی ترقی اوربااختیاری کے بغیر @2047 تک وکست بھارت کا تصور ادھورا رہے گا: ڈاکٹر شمس اقبال

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سینٹر فار نریندر مودی اسٹڈیز نئی دہلی کے اشتراک سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں اردو ادب میں خواتین کی سماجی،سیاسی اورثقافتی بااختیاری کی عکاسی  کے موضوع پر مذاکرہ

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام سینٹر فار نریندر مودی اسٹڈیز نئی دہلی کے اشتراک سے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں’اردو ادب میں خواتین کی سماجی،سیاسی اورثقافتی بااختیاری کی عکاسی‘ کے عنوان سے مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہاکہ موجودہ وقت میں ایسے موضوعات پر گفتگو بہت ضروری ہے جن کا براہ راست تعلق خواتین سے ہو۔اس لیے کہ خواتین کی ترقی اوربااختیاری کے بغیر @2047 تک وکست بھارت کا تصور ادھورا رہے گا،یہی وجہ ہے کہ G20 میں ہمارے وزیر اعظم عزت مآب  نریندر مودی نے اس بات پر خاص توجہ دی تھی کہ خواتین ہرمیدان میں آگے بڑھیں اورہندوستان کی ترقی اورخوش حالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

انھوں نے کہا کہ اردو زبان میں عورتوں کے حقوق اورمسائل پر بہت کچھ لکھاگیا ہے، خواہ نظم ہو یانثر مصنّفین نے عورتوں کو خاص جگہ دی ہے اور  عورتوں کی حصے داری کو نمایاں طور پر بیان کیاہے۔ صدارتی تقریر کرتے ہوئے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے وائس چانسلر پروفیسر محمد مبین نے کہاکہ اردو میں خواتین فکشن نگار نے خاص طور پر رشید جہاں نے شروع سے ہی عورتوں کے حقوق اورمسائل کو  بیان کیاہے ۔ بہت سی خواتین فکشن نگار نے بھی عورتوں کے مسائل پر بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ لکھا ہے۔ انھوں نے اردو زبان کے فروغ اور اشاعت کے باب میں قومی ارد وکونسل کی خدمات کو سراہا۔

مہمان اعزازی ڈاکٹر شبستاں غفار سابق چیئرپرسن آف گرلس ایجوکیشن،این سی ایم ای آئی حکومت ہند نے خواتین کی سماجی،سیاسی اورثقافتی بااختیاری پر مدلل گفتگو کی۔انھوں نے اردو زبان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ دیہات کی جو خواتین تعلیم سے محروم تھیں وہ این او آئی ایس سے جڑکر اردو تعلیم کے ذریعے خود کو منوایا اوراپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ آج سماج میں مثبت تبدیلی بھی لارہی ہیں۔پروفیسر ابوبکر عباد صدرشعبہ اردو دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ ہمیں ایسے ماحول  اورحالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے،وہ جس میدان میں بھی اورجس طرح کی تعلیم حاصل کرناچاہیں اسے ان کو مکمل اختیار ہوناچاہیے۔

 انھوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کی بات تو کرتے ہیں لیکن جب ان کو حق دینے کا وقت آتاہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اردو ادب میں خواتین کو مکمل آزادی ہے کہ وہ جوچاہیں لکھیں،جیسا چاہیں لکھیں اورجس پر چاہیں لکھیں ان پرکوئی بندش نہیں ہے۔

ڈاکٹر مہر فاطمہ حسین ایسوسی ایٹ پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے کہاکہ عورتوں کی تعلیم بہت ضروری ہے اس کے بغیرخواتین بااختیار نہیں ہوسکتیں، انھوں نے کہا کہ خواتین اس وقت تک با اختیار نہیں ہوسکتی ہیں جب تک کہ ان کے ساتھ مساوات اور انصاف نہ ہو۔

مشہور نقاد اورصحافی حقانی القاسمی نے خواتین کی تخلیقی خود مختاری پر مدلل گفتگو کی ۔ انھوں نے کہا کہ مرد عورت کے مابین صنفی جنگ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مردوں ہی نے عورتوں کے خیالوں کو زمین اور خوابوں کو آسمان عطا کیا ہے۔ انھوں نے Victim Language یعنی کشتہ زبان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عورتوں نے بااختیار زبان کے بجائے کشتہ زبان کا استعمال کیا اس لیے آج بھی انھیں مظلومیت اور محکومیت کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالباری اسسٹنٹ ایڈیٹر نے انجام دیا۔ شکریے کی رسم پروفیسر جسیم محمد (چیئرمین سینٹر فار نریندر مودی اسٹڈیز ) نے ادا کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read