وقف ترمیمی قانون کے خلاف مغربی بنگال میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس اور مسلم تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔ احتجاج کے دوران ممتا بنرجی حکومت کے وزیر اور ٹی ایم سی لیڈر صدیق اللہ چودھری نے کولکاتہ کو ٹھپ کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے ساتھ چودھری نے کہا کہ ہم کلکتہ بھر میں 50 سے زیادہ مقامات پر 10 ہزار سے زیادہ لوگوں کے ساتھ احتجاج کریں گے۔کولکاتہ کے رام لیلا میدان میں جمعیت علمائے ہند کی مغربی بنگال یونٹ کی جانب سے ایک بہت بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نے کولکاتہ میں بڑے پیمانے پر ٹریفک جام کرنے کی دھمکی دی۔ چودھری نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو کولکاتہ کو پوری طرح سے ٹھپ کرسکتے ہیں۔
ٹی ایم سی لیڈر نےمزید کہا کہ اگر ہم کولکاتہ کوٹھپ کرنا چاہیں تو ہم یہاں 50 جگہوں پر لوگوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں اور ٹریفک کو روک سکتے ہیں، ہم نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے، لیکن ہم ایسا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اضلاع سے آغاز کریں اور پھر کولکاتہ کے 50 مقامات پر 10،000 افراد کو تعینات کریں، انہیں کچھ نہیں کرنا ہے، وہ آئیں گے اور میٹھائی کھائیں گے۔
مغربی بنگال کے مشرقی بردوان میں منگل کوٹ کے ایم ایل اے صدیق اللہ چودھری نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ چودھری نے کہا کہ مغربی بنگال میں دیدی کی حکومت میں مسلمان مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مزید، انہوں نے کہا کہ انہیں وزیراعلیٰ کا فون آیا تھا، جنہوں نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ وقف ترمیمی ایکٹ کو مغربی بنگال میں نافذ نہیں ہونے دیں گی۔
چودھری نے مظاہرین کو تشدد سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ چودھری نے کہا کہ اس قانون کے خلاف ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کے دستخط جمع کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی کو خط بھیجا جائے گا۔ چودھری جمعیۃ علماء ہند کی بنگال یونٹ کے صدر اور ممتا حکومت میں لائبریری کے وزیر ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

