Bharat Express DD Free Dish

Waqf Chetna Abhiyan: ’’وقف چیتنا ابھیان‘‘ کے ساتھ بی جے پی کرے گی ملک بھر کے پسماندہ مسلمانوں تک پہنچنے کی کوشش، اپوزیشن پر لگایا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا الزام

واضح رہے کہ بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور دیگر سمیت 15 سے زیادہ ریاستوں میں پسماندہ مسلمان ملک کی کل مسلم آبادی کا تقریباً 75-80 فیصد ہیں۔

مغربی بنگال کے لئے بی جے پی نے 111 امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کردی ہے۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وقف ترمیمی بل کی منظوری کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلم اکثریتی علاقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک ملک گیر آؤٹ ریچ پروگرام ’’وقف چیتنا ابھیان‘‘ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں پسماندہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ بی جے پی کے اقلیتی مورچہ سے وابستہ مسلم لیڈر آنے والے ہفتوں میں اس مہم کی قیادت کرنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور دیگر سمیت 15 سے زیادہ ریاستوں میں پسماندہ مسلمان ملک کی کل مسلم آبادی کا تقریباً 75-80 فیصد ہیں۔ اس پہل کے ذریعے بی جے پی کا مقصد بہت سی فلاحی اسکیموں کو متعارف کروا کر پسماندہ مسلمانوں میں اپنی پکڑ مضبوط کرنا ہے۔ پسماندہ مسلمانوں کی اکثریت تعلیم اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں پچھڑی ہوئی ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بی جے پی اقلیتی مورچہ کے قومی صدر جمال صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ وقف ترمیمی بل اقتصادی طور پر پسماندہ مسلمانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دی نیو انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق انھوں نے زور دے کر کہا ’’اپوزیشن پارٹیاں، جنھوں نے طویل عرصے سے مسلم آبادی کو اپنے ووٹ بینک کے حصے کے طور پر استعمال کیا ہے، ایک بار پھر غریب مسلمانوں کو اس بل کے بارے میں گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم معاشی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ مسلمانوں کو اب مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔‘‘

جلد انتخابات سے گزرنے والی ریاستوں میں شروع کی جائے یہ مہم

خبر کے مطابق بی جے پی کا یہ ’’وقف چیتنا ابھیان‘‘ بہار، مغربی بنگال اور تمل ناڈو سمیت ان ریاستوں میں شروع کیا جائے گا، جہاں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔جاوید صدیقی نے کہا کہ بی جے پی اپنے اقلیتی مورچہ کے ذریعے جلد ہی ملک بھر میں مہم شروع کرے گی۔ انھوں نے کہا ’’ہم انھیں اس بارے میں آگاہ کریں گے کہ اس بل سے انھیں کس طرح فائدہ ہوگا۔ ہم انھیں اس بارے میں بھی آگاہ کریں گے کہ کس طرح اپوزیشن بشمول کانگریس نے کھوکھلی تسکین کے ذریعے مسلم آبادی کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا ہے،‘‘

صدیقی نے وضاحت کی کہ اس مہم کو مسلم کمیونٹی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اقلیتی مورچہ کے کارکنان چلائیں گے۔ انھوں نے عید کے دوران ایک حالیہ اقدام کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت غریب مسلمانوں میں خوراک اور ضروری اشیاء پر مشتمل ’’سوغاتِ مود‘‘ کٹس تقسیم کی گئی تھی۔ صدیقی نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی حقیقی طور پر غریب مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ ہر کسی کی خوشحالی چاہتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی ذات یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔وزیر اعظم غریب مسلمانوں کو غربت سے نکالنے اور تعلیم کو فروغ دینے اور معاشی بااختیار بنانے کے ذریعے درپیش تعلیمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وقف ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read