Bharat Express DD Free Dish

MRM

مسلم راشٹریہ منچ کے کارکنان کنونشن میں راہل گاندھی، اپوزیشن اور CJP کی سیاست پر سخت سوالات؛ بنگلہ دیش اور پاکستان کے حالات سے سبق لینے کی اپیل، تعلیم، خواتین کے احترام، خاندانی اتحاد اور ملک کی تعمیر پر زور۔

نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر جنگِ حائفہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بھارتی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مسلم راشٹریہ منچ (MRM) کی جانب سے نئی دہلی کے ایوانِ غالب میں واقع غالب آڈیٹوریم میں منعقدہ اس پروگرام میں رکشا بندھن کی روایتی روح کو محبت، باہمی احترام، ہم آہنگی اور قومی ذمہ داری کے وسیع تر پیغام سے جوڑا گیا۔ مسلم بہنوں نے ڈاکٹر اندرِیش کمار کی کلائی پر رکشا سُوتر (راکھی) باندھا، جس کے بعد خواتین نے ترنگا یاترا میں حصہ لیا اور قومی پرچم ہاتھوں میں اٹھا کر یہ پیغام دیا کہ ہندوستان کی مختلف شناختیں ایک مشترکہ ہندوستانی شناخت کے ذریعے متحد رہ سکتی ہیں۔

صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد پروفیسر نے اپنی سابقہ یونیورسٹی کے دورے کے دوران معروف لائبریری ’مولانا آزاد سینٹرل لائبریری‘ کا معائنہ کیا اور نایاب مخطوطات و تاریخی خزانوں کے درمیان گزارے گئے اپنے ایام کی یادیں تازہ کیں۔ اس موقع پر پروفیسر پنکج متل اور پروفیسر گیتا بھٹ بھی موجود تھیں۔ معائنے سے قبل اے ایم یو کے وائس چانسلر نے تینوں ایگزیکٹو کونسل ارکان کا استقبال کیا۔

جنوبی ہند اجلاس میں اتحاد، تعلیم اور قومی یکجہتی کے لیے زوردار آوازیں، تمل ناڈو میں MRM اجلاس میں منچ کی توسیع، مارگ درشک ڈاکٹر اندریش کمار، قومی رابطہ کار و تعلیم دان پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر، ہمالیہ پریوار کے وجے شنکر مشرا، رکن پارلیمنٹ متھلیش کمار کٹھیریا، کینسر سرجن و قومی رابطہ کار ڈاکٹر ماجد احمد تالیکوٹی، قومی رابطہ کار و جنوبی ہند انچارج الیاس احمد، اور پروگرام رابطہ کار احمد ملک ودیار شامل تھے۔

مسلم راشٹریہ منچ کے سرپرست ڈاکٹر اندریش کمار کی صدارت میں منعقدہ تقریبِ اعزاز میں پروفیسر شاہد اختر نے نوجوانوں اور ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا، ’’آپ ہی بھارت کا مستقبل ہیں، ترقی یافتہ بھارت 2047 کا خواب آپ ہی کے کندھوں پر ہے۔‘‘

اعلیٰ سطح کے وفد نے راج بھون پٹنہ میں لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین سے قومی تعمیر کے اقدامات پر گفتگو کی۔ اس ملاقات میں قومی امور، تعلیمی سر بلندی اور اشتراکی قومی تعمیر کے اقدامات پر توجہ مرکوز رہی۔

راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام،ثقافت، آب و ہوا اور تاریخ پر وسیع غور و فکر کیا گیا۔

ڈاکٹر اندر یش کمار نے کہا کہ ہندوستانی نوجوانوں کے آئیڈیل دہشت گردی کی علامت قصاب نہیں بلکہ ملک کے عظیم سائنس دان اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام ہیں، جن کی زندگی اور افکار آج بھی نوجوانوں کو قوم کی تعمیر کے لیے ترغیب دیتے ہیں۔