Bharat Express DD Free Dish

MRM

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے کنونشن سینٹر میں چھٹے ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ بین الاقوامی کانفرنس 2026 کا شاندار اور پروقار افتتاح عمل میں آیا۔ یہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ہمالیہ–ہند بحرِ ہند ممالک گروپ (HHRS) اور راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ (RSJM) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔

محمد عرفان احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اگر پیغمبرِاسلام حضور محمدﷺ، قرآن شریف یامذہب اسلام کے نام پر کسی انسان کی جان لے لی جائے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہیں نہ کہیں شدید اخلاقی اور دینی انحراف ہورہاہے۔

مسلم راشٹریہ منچ نے کہا کہ حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ کی یہ مشترکہ کارروائی قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنے، سماجی توازن برقرار رکھنے اور مستقبل کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ تجاوزات کے خلاف مضبوط کارروائی پورے معاشرے کے مفاد میں ہے۔

آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ نے بنگلہ دیش میں جاری تعطل پرجاری اپنے بیان میں کہا کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ منچ نے  اقلیتوں پر مظالم کے خلاف بھارتی مسلمانوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے متنازعہ شقوں پر عارضی پابندی عائد کی ہے، جن پر وسیع پیمانے پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔

آرایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کی میٹنگ میں باہمی مذاکرات، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے جذبے کومضبوط کرنے پرزوردیا گیا۔ میٹنگ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کئی اہم مشورے دیئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حالیہ یوم آزادی کی تقریر کی تعریف بھی کی گئی۔ ڈاکٹر کمار نے لال قلعہ سے آر ایس ایس پر مودی کے ’سچ اور بے خوف پیغام‘ کو ’قومی اتحاد کا دلیرانہ اظہار‘ قرار دیا۔ یہ اعتراف حکومت کی ان کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے جو نظریاتی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ہندوستان کی جامع شناخت کا جشن مناتے ہیں۔

نیشنل کمیشن فارمائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے چیئرمین ڈاکٹرشاہد اختر نے کہا کہ آر ایس ایس اورمسلم راشٹریہ منچ نے علمائے کرام، دانشور اورصحافیوں سے میٹنگ کی ہے تاکہ عام لوگوں سے جڑا جاسکے۔ اس کا مقصد ملک کی تہذیب اور تمام مذاہب کے لوگ اپنے حقوق کے ساتھ آگے بڑھیں اورملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

اس میٹنگ میں ملک بھر سے آئے ہوئے ایم آر ایم کے نمایاں کارکنان اور نمائندوں نے سرگرم شرکت کی اور یہ میٹنگ صرف قراردادوں کی فہرست نہیں تھی، بلکہ ایک نئے وژن اور تبدیلی کا بیج تھی۔

ایم آر ایم کی جانب سے اس ناقابل تلافی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔