Bharat Express DD Free Dish

Nagpur Violence:ناگپور میں مساجد کے باہر سیکورٹی کے سخت پہرے،نماز جمعہ کے پیش نظر علاقے میں انتظامیہ الرٹ

شہر ناگپور کے کئی حصوں سے پیر (17) کی شام کو یہ افواہ پھیلنے کے بعد بڑے پیمانے پر پتھراؤ اور آتش زنی کی اطلاع ملی کہ وشو ہندو پریشدکے زیرقیادت احتجاج کے دوران ایک ایسی چادر جلائی گئی جس پر آیت لکھی ہوئی تھی۔

پیر (17 مارچ) کو ناگپور میں تشدد کے بعد شہر میں حالات اب آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں۔ جمعرات کو کئی علاقوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی۔ تاہم اب 21 مارچ کو ہونے والی رمضان المبارک کی نماز جمعہ کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔دراصل رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ کی نماز جمعہ کو ادا کی جانی ہے۔ اس حوالے سے پولیس ہائی الرٹ ہے۔ شہر کی تمام مساجد کے باہر پولیس کی سخت سیکورٹی تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے سخت نگرانی کی جارہی ہے۔فسادات میں اب تک 12 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سے 4 سائبر پولیس نے اور 8 مقامی ناگپور پولیس نے درج کی ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد کے سلسلے میں اب تک 100 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف، مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکل نے جمعرات (20 مارچ) کو ناگپور کے فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لیے پارٹی رہنماؤں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ مہاراشٹر کانگریس کے عہدیداروں نے بتایا کہ سپکل کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی گوا کے انچارج مانیک راؤ ٹھاکرے اور سینئر لیڈر نتن راوت، یشومتی ٹھاکر، حسین دلوائی اور ساجد پٹھان شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ناگپور ضلع کانگریس کے سربراہ اور ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے کو اس کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا ہے جبکہ اے آئی سی سی سکریٹری پرفل پاٹل کو کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ودربھ خطہ کے سب سے بڑے شہر ناگپور کے کئی حصوں سے پیر (17) کی شام کو یہ افواہ پھیلنے کے بعد بڑے پیمانے پر پتھراؤ اور آتش زنی کی اطلاع ملی کہ وشو ہندو پریشدکے زیرقیادت احتجاج کے دوران ایک ایسی چادر جلائی گئی جس پر آیت لکھی ہوئی تھی، اس افواہ کے بعد حالات یکسر بدل گئے اور صورتحال کشیدہ ہوتی گئی اور  نیتجے میں  فساد پھوٹ پڑا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔