غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جاری۔
غزہ: غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 16 فلسطینی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی WAFA کے حوالے سے بتایا کہ یہ حملہ بدھ کو بیت لاہیا کے علاقے سلاطین میں ہوا، یہاں لوگوں نے پہلے ہوئے اسرائیلی حملوں کے متاثرین کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کی تھی۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
غزہ میں الجزیرہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ بدھ کے روز غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70 فلسطینی مارے گئے اور جمعرات کی صبح ہونے والے حملوں میں 20 سے زائد افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ جب سے اسرائیل نے منگل کو جنگ بندی توڑی ہے تب سے غزہ میں 183 بچوں سمیت 436 فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
یہ حملے غزہ میں اسرائیلی فوج کی تازہ کارروائی کے درمیان ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملے حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’حماس کے خطرے کو ختم کرنے‘ کے لیے کیے جا رہے ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ان کے ’اسٹریٹیجک ٹارگیٹ‘ کی تکمیل نہیں ہو جاتی۔
وہیں، فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ایمرجنسی سروسز صحیح طریقے سے کام نہیں کر پا رہی ہیں۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے فضائی حملے ’صرف شروعات‘ ہیں۔ اس کے بعد مزید سنگین حملے ہوں گے، اور تم اس کی پوری قیمت چکاؤ گے۔
بدھ کو حماس کے میڈیا آفس نے کہا کہ غزہ کے 20 لاکھ افراد کو خوراک کی شدید قلت اور ایک ایسے انسانی بحران کا سامنا ہے جس کی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اسرائیلی ناکہ بندی اور سرحد کی بندش کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔
دفتر نے کہا کہ کئی بیکریاں بند ہو گئی ہیں، جس سے بریڈ تک ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ کو ’’زندگی کی بنیادی ترین ضروریات‘ سے محروم کر رہا ہے۔
انہوں نے سرحد کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




