Urdu Conclave 2026

Allahabad High Court on Sambhal Jama Masjid’s Whitewash: الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثارِ قدیمہ سے مسجد کی سفیدی کی اجازت نہ دینے کے اسباب کی وضاحت طلب کی

جسٹس روہت رنجن اگروال نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سنبھل کی اس جامع مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرنے کے تعلق سے 1927 میں حکومتی انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان کیے گئے معاہدے کی اصلی کاپی عدالت کے سامنے پیش کریں۔

سنبھل کی جامع مسجد۔ (فائل فوٹو)

الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز محکمہ آثارِ قدیمہ کو اترپردیش کے سنبھل میں واقع مسجد کی سفیدی (رنگائی پُتائی) کی اجازت نہ دینے کے اسباب کی وضاحت پر مبنی ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس روہت رنجن اگروال نے سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سنبھل کی اس جامع مسجد کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے حوالے کرنے کے تعلق سے 1927 میں حکومتی انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان کیے گئے معاہدے کی اصلی کاپی عدالت کے سامنے پیش کریں۔

الہ آباد ہائی کورٹ میں مسجد کمیٹی کی اس درخواست پر سماعت ہو رہی تھی، جس میں مسجد کمیٹی نے کہا ہے کہ وہ صرف مسجد  کے  بیرونی حصے کے رنگ و روغن کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق محکمے نے ان کی اس درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اس سے قبل کیا ہوا؟

واضح رہے کہ اس سے قبل 28 فروری کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے الہ آباد ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ شاہی جامع مسجد اچھی حالت میں ہے اور رمضان  پہلے اس کے رنگ و روغن (رنگائی پتائی) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مسجد کی انتظامی کمیٹی نے آثار قدیمہ کے سروے کی رپورٹ پر اعتراض کیا تھا اور اسے ’’غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد کی تزئین اور اس کی رنگائی پتائی کی ضرورت ہے۔ پیر کو ہائی کورٹ نے سرکاری ایجنسی سے کہا کہ وہ اپنے حلف نامے میں اس کی وضاحت کرے کہ کیا مسجد کے بیرونی حصے کی رنگائی  واقعی ضروری ہے یا نہیں۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ

وہیں محکمہ آثار قدیمہ نے عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ مسجد کی انتظامیہ کمیٹی نے مسجد کی تزئین اور رنگائی پتائی کے ذریعے بنیادی ڈھانچے میں کافی تبدیلیاں کر دی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’عمارت  کا فرش مکمل طور پر ٹائلوں اور پتھروں سے بدل دیا گیا ہے۔ اور  مسجد کے اندرونی حصے کو سنہرے، سرخ اور سبز  جیسے تیز رنگوں کے تامچینی پینٹ کی موٹی تہوں سے رنگا گیا ہے، جس نے اس عمارت کے اصل رنگ کو چھپا دیا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read