ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ تہور رانا این آئی اے کی 12 دنوں کی حراست میں بھیجا گیا۔
ممبئی کے 26/11 حملوں کے ملزم تہور رانا کو ہندوستان لانے کا راستہ ہموارہوگیا ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ میں اس کی دلیلیں کام نہیں آئیں۔ عدالت نے اس کی ہندوستان سپردگی پر روک لگانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو خارج کردیا ہے۔
تہور رانا نے ہندوستان کے حوالے کئے جانے سے بچنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس نے امریکی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائرکی تھی، جس میں ان کی حوالگی پرایمرجنسی اسٹے (ہنگامی طور پرروک لگانے) کی اپیل کی گئی تھی۔ تہور رانا نے کہا تھا کہ اگر مجھے ہندوستان کے حوالے کیا گیا تومجھ پرتشدد کیا جائے گا اورمیں وہاں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکوں گا۔
تہوررانا نے ہندوستان پر لگائے تھے کئی الزام
ممبئی حملوں کے ملزم تہور رانا نے اپنی عرضی میں ہندوستان پر بھی کئی الزام لگائے تھے۔ اس نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ 2023 کی ورلڈ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے اوردن بدن آمرانہ ہوتی جا رہی ہے۔ اس لئے اگرمجھے بھارت کے حوالے کیا گیا تووہاں مجھے تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا کیونکہ میں پاکستانی نژاد مسلمان ہوں۔ اس نے یہ دلیل بھی دی کہ اس کی صحت ٹھیک نہیں ہے اور وہ پارکنسنزجیسی بیماری سے پریشان ہے۔
لاس اینجلس کی جیل میں بند ہے تہور رانا
تہور رانا پاکستانی نژاد کناڈائی شہری ہے۔ وہ فی الحال لاس اینجلس کی ایک جیل میں بند ہے۔ اسے لشکرطیبہ کے دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی سے وابستہ مانا جاتا ہے، جو 2008 کے ممبئی حملوں سے متعلق اہم سازش کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ اس حملے میں 175 لوگ مارے گئے تھے۔
وزیراعظم مودی کے امریکہ دورے کے دوران ٹرمپ نے کیا تھا اعلان
فروری میں جب وزیراعظم نریندر مودی امریکہ کے دورے پرگئے تھے، اس دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے تہور رانا کو ہندوستان کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب اسے ہندوستان میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ تب لیا تھا، جب سپریم کورٹ نے رانا کی عرضی کو خارج کردیا تھا۔ حالانکہ بعد میں تہور رانا نے عدالت میں ایک اور عرضی داخل کردی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

