’میں نے کچھ غلط نہیں کیا، معافی نہیں مانگوں گا‘، ٹرمپ سے گرما گرم بحث کے بعد زیلنسکی کا نہیں بدلا رویہ
Trump-Zelensky Meeting: جمعے کے روز بات چیت کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑے تصادم کے بعد زیلنسکی نے ٹرمپ سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس واقعے کو دونوں فریقوں کے لیے ’اچھا نہیں‘ قرار دیا۔ تاہم، زیلنسکی نے کہا کہ اگر امریکہ اپنی حمایت واپس لے لیتا ہے تو روس کے خلاف یوکرین کا دفاع کرنا ہمارے لیے ’مشکل‘ ہو جائے گا۔ انہوں نے امریکی صدر کے ساتھ محاذ آرائی کو کھلے عام نشر کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں عاجزی برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔
’میں صدر کا احترام کرتا ہوں لیکن معافی نہیں…‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ صدر ٹرمپ سے معافی مانگیں گے تو انہوں نے جواب دیا، ’نہیں، میں صدر کا احترام کرتا ہوں۔ میں امریکہ کے لوگوں کا بھی احترام کرتا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم نے کچھ غلط کیا ہے۔‘ ساتھ ہی، حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بڑھتی قربتوں کے حوالے سے زیلنسکی نے کہا، ’میں چاہتا ہوں کہ وہ (ٹرمپ) درمیان میں رہیں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ ہماری طرف رہیں۔‘ کیا جمعہ کی گرما گرم بحث کے بعد ان کے اور ٹرمپ کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں؟ اس پر زیلنسکی نے جواب دیا، ’ہاں، بالکل۔‘
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ہوئی گرما گرم بحث
ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان گرما گرم آن کیمرہ بحث کے بعد پوری دنیا حیران ہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس چھوڑنے کو کہا گیا۔ ٹرمپ نے گفتگو میں خلل ڈالا۔ میڈیا کے سامنے اس عام بحث کے بعد ٹرمپ کچھ خاص کہنے والے تھے۔ یعنی معدنی معاہدے پر ایک معاہدہ لیکن درمیان میں معاملات غلط ہو گئے اور اس کی شروعات سیکورٹی ڈیل کے سوال سے ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں- Trump-Zelensky Meeting: ’امن کے لیے تیار نہیں، امریکہ کی توہین کی‘،زیلنسکی کے ساتھ میٹنگ پر ٹرمپ کا بڑا بیان
ٹرمپ سرمایہ کاری پر واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں
درحقیقت صدر ٹرمپ سابق صدر جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی اقتصادی اور فوجی امداد کے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کسی طرح اس سرمایہ کاری پر واپسی حاصل کرے۔ اپنے بیانات میں انہیں اکثر یہ کہتے سنا گیا کہ دی گئی حمایت کے بدلے امریکہ 500 بلین ڈالر چاہتا تھا لیکن وہ 350 بلین ڈالر کا معاہدہ طے کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ شرط بھی رکھی کہ یوکرین کو اس کے بدلے میں کچھ نہیں ملے گا اور یقینی طور پر سیکیورٹی بھی نہیں۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

