Bharat Express DD Free Dish

JPC report on Waqf: وقف ترمیمی بل سے متعلق جے پی سی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش، اپوزیشن کا واک آؤٹ، کانگریس ایم پی ڈاکٹر سید ناصر حسین نے لگایا بڑا الزام

وقف ترمیمی بل 2024 کی جے پی سی رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش کئے جانے پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا ہے۔

نئی دہلی: وقف ترمیمی بل 2024 پر تبادلہ خیال کے لئے بنائی گئی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کے رکن اور کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سید ناصرحسین نے اپوزیشن کے راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کرنے کے بعد کہا کہ وقف ترمیمی بل پر آج پیش ہوئی جے پی سی رپورٹ پوری طرح سے یکطرفہ بنی ہے۔ جے پی سی میں جس امور پرعمل کیا جانا چاہئے، وہ نہیں کیا گیا۔ وقف بل میں جواہم نکات تھے، ان پربحث نہیں کی گئی ہے۔ کئی اہم فریق کوبلایا جانا چاہئے تھا، لیکن نہیں بلایا گیا۔ اس کے بعد ہم نے ڈیسنٹ نوٹ جمع کئے، لیکن اس نوٹ میں جوضروری نکات تھے، انہیں ہٹا دیا گیا۔

اس سے پہلے راجیہ سبھا سے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں وقف بل پر جے پی سی رپورٹ پیش ہونے کے بعد سے ہی اپوزیشن لیڈران اس کی مخالفت کررہے تھے۔ جب ان کی بات نہیں سنی گئی تواپوزیشن پارٹیاں بحث کے درمیان ہی ایوان سے باہرنکل گئے۔

پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجونے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ میں وقف بل پرجوجے پی سی کمیٹی تشکیل کی گئی، اس نے اچھے سے کام کیا۔ آج راجیہ سبھا میں اسے (وقف ترمیمی بل پرجے پی سی کی رپورٹ) پیش کرتے وقت اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ ان کے نااتفاقی والے نوٹ کو ہٹایا گیا ہے۔ میں نے جے پی سی چیئرمین سے بات کی اور راجیہ سبھا میں بتایا ہے کہ رپورٹ پوری پیش کی گئی ہے۔ ڈیسنٹ نوٹ میں اگرکمیٹی کے اوپرکوئی سوال اٹھائے جاتے ہیں توچیئرمین کے پاس اسے ہٹانے کا حق ہے۔ سبھی پارٹیوں کو ملا کرجے پی سی کی تشکیل کی گئی تھی۔ یہ صرف این ڈی اے کی رپورٹ نہیں ہے۔ اس رپورٹ کی اہمیت ہوتی ہے اور اگر آپ اس کے خلاف بولتے ہیں تو آپ اپنے ہی ووٹ کے خلاف بول رہے ہیں۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ جے پی سی رپورٹ میں اپوزیشن کے ڈیسنٹ نوٹ شامل نہیں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read