صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد ٹرمپ کا بیان
نیویارک: امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کے اپنے انتخابی وعدے پر زور دیا۔ حالانکہ، انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تارکین وطن قانونی طور پر ملک میں آئیں۔
ریپبلکن لیڈر نے این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ظاہر طور پر سرحد کو مضبوط اور طاقتور بنانا ہے اور ساتھ ہی ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ملک میں آئیں۔ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد ٹرمپ کا یہ پہلا انٹرویو تھا۔
ٹرمپ نے کہا ، ’’میں ایسا شخص نہیں ہوں جو کہتا ہے، ’نہیں، آپ اندر نہیں آ سکتے،‘۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ آئیں۔‘‘ جب ان سے غیر قانونی تارکین وطن کو بڑے پیمانے پر ملک واپس بھیجنے میں آنے والے اخراجات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ’’یہ قیمت کا سوال نہیں ہے۔‘‘ منتخب صدر نے کہا، ’’لوگوں نے قتل کیا ہے، منشیات کے مالکوں نے ملکوں کو تباہ کر دیا، تو ایسے میں واپس بھیجنے کے لیے قیمت کوئی سوال نہیں ہے۔‘‘
ٹرمپ نے صدر جو بائیڈن اور ہیرس کے ساتھ اپنی بات چیت کو ’بہت اچھی‘ اور دونوں طرف سے ’بہت احترام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بائیڈن کے ساتھ لنچ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
نومنتخب صدر نے کہا کہ انہوں نے 70 عالمی لیڈران سے بات کی ہے، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہیں، لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتن سے نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی ان لیڈران میں شامل ہیں جن سے انہوں نے بات کی ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ ٹرمپ کی جیت پر پی ایم مودی نے انسٹاگرام پر لکھا تھا، ’’میرے دوست ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی تاریخی انتخابی جیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ آپ کے پچھلے دور کی کامیابیوں کی طرح، میں ہند-امریکہ جامع عالمی اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے تعاون کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں۔ آئیے مل کر اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود، عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔