Bharat Express DD Free Dish

World News in Urdu

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق مسلسل حملوں، بے گھری، خوف اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تقریباً سات لاکھ ستر ہزار بچے ذہنی تناؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں بھی ان کی زندگیوں پر نمایاں طور پر پڑ سکتے ہیں۔

بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ فوکیٹ میں 9 مئی 2026 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق چار بھارتی سیاح ایک کیفے میں موجود تھے جہاں وہ اچانک بے ہوش ہو گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس خطرناک وائرس کے باعث اب تک تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ افراد میں بیماری کی علامات پائی گئی ہیں اور انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 4 مئی کو پیش آنے والے اس واقعے میں جہاز پر موجود مسافروں میں زیادہ تر برطانیہ، اسپین اور امریکہ کے شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر سات افراد میں وائرس کی علامات پائی گئیں، جن میں سے دو کیسز کی لیبارٹری رپورٹ کے ذریعے تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دیگر پانچ افراد کو مشتبہ زمرے میں رکھا گیا ہے۔

جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں لگی بھیانک جنگلاتی آگ پر قابو پانا حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایواتے کے جنگلات میں بھڑکنے والی آگ مسلسل پھیل رہی ہے اور جمعہ کی صبح تک تقریباً 1200 ہیکٹر رقبہ جل کر خاک ہو چکا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

یہ روہنگیا افراد دراصل میانمار میں جاری بدامنی اور فوجی کارروائیوں کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد بنگلہ دیش منتقل ہوئی، جبکہ ہزاروں افراد روزگار کی تلاش میں سعودی عرب چلے گئے۔ تاہم قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب سعودی عرب کی مداخلت کے بعد ان افراد کو باضابطہ دستاویزات فراہم کی گئی ہیں، جس سے ان کی زندگی میں استحکام آنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔