میڈرڈ: اسپین کے جزیرے ٹینیرائف کے قریب ہنٹا وائرس سے متاثرہ لگژری کروز شپ ”ایم وی ہونڈیئس“ کو روک دیا گیا ہے، جہاں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد مسافروں کی بیماری کے بعد عالمی صحت ادارے بھی متحرک ہوگئے ہیں۔ اسپین کے حکام نے اتوار کی صبح جہاز کو گریناڈیلا بندرگاہ کے قریب لنگر انداز کیا، جبکہ جہاز پر موجود مسافروں اور عملے کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس خطرناک وائرس کے باعث اب تک تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں ایک ڈچ جوڑا اور ایک جرمن شہری شامل ہے۔ اس کے علاوہ آٹھ افراد میں بیماری کی علامات پائی گئی ہیں اور انہیں طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود دیگر مسافروں میں فی الحال واضح علامات سامنے نہیں آئیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے تحت تمام افراد کو ”ہائی رسک کانٹیکٹ“ تصور کیا جارہا ہے۔
اسپین کی صحت ایجنسی اور یورپی ہیلتھ حکام کے مطابق جہاز پر 23 مختلف ممالک کے 149 افراد سوار ہیں۔ مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے مرحلہ وار ساحل تک منتقل کیا جائے گا، جہاں طبی ٹیمیں ان کے فوری ٹیسٹ اور اسکریننگ کریں گی۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد انہیں بند بسوں کے ذریعے ٹینیرائف ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے اپنے ممالک واپس جاسکیں۔ حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن کئی مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ سب سے پہلے اسپین کے شہریوں کو جہاز سے اتارا جائے گا، جبکہ بعد میں دیگر ممالک کے مسافروں کو الگ الگ گروپوں کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔ تقریباً 30 کریو ممبران جہاز پر ہی موجود رہیں گے تاکہ تکنیکی اور حفاظتی امور انجام دیے جاسکیں۔ بعد ازاں اس جہاز کو نیدرلینڈ بھیجا جائے گا، جہاں مکمل صفائی اور جراثیم کش عمل کے بعد ہی اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔
یہ کروز شپ گزشتہ بدھ کو کیپ وردے سے اسپین کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن راستے میں کئی مقامات پر مسافروں کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ صورتحال سنگین ہونے پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یورپی یونین نے اسپین سے فوری تعاون کی اپیل کی۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس بھی ہفتے کے روز ٹینیرائف پہنچ گئے تھے، جہاں انہوں نے اسپین کے صحت اور داخلہ حکام کے ساتھ مل کر ریسکیو اور نگرانی کے عمل کا جائزہ لیا۔
طبی ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس عام طور پر چوہوں اور دیگر جنگلی جانوروں کے فضلے، پیشاب یا لعاب سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ وائرس شدید سانس کی بیماری اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ انسان سے انسان میں اس وائرس کی منتقلی کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں، اس لیے عالمی سطح پر فوری خطرہ محدود سمجھا جارہا ہے۔ اس واقعے کے بعد یورپ میں بحری سیاحت اور صحت کے حفاظتی انتظامات پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ عوامی حلقوں میں سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ بین الاقوامی سفر کے دوران متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



