Bharat Express DD Free Dish

WHO

ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی فوری ترجیح سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنا اور جہاں طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، انہیں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارۂ صحت نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان ضروری رابطہ، نگرانی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

بھنے ہوئے چنے بھی صحت مند اسنیک کا اچھا متبادل ہوسکتے ہیں۔ چنوں میں پروٹین اور فائبر پایا جاتا ہے۔ پروٹین جسم کے پٹھوں کے لیے ضروری ہے، جبکہ فائبر دیر تک پیٹ بھرا رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس وجہ سے بھوک لگنے پر بھنے چنے کھانے سے بار بار کچھ کھانے کی خواہش کم ہوسکتی ہے۔بادام، اخروٹ اور کاجو جیسے ڈرائی فروٹس بھی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔

آلودہ خوراک یا پانی سے پھیلنے والی ہیضے کی بیماری نائجیریا، خصوصاً سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور کمزور آبی و صفائی کے نظام والی ریاستوں میں، اب بھی صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کی سہولیات سے جڑے ایچ آئی وی انفیکشن کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں پیش آنے والا بڑا ایچ آئی وی سانحہ نمایاں ہے، جہاں مبینہ طور پر آلودہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سیکڑوں بچے اس بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔

حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خوفزدہ ہونے کے بجائے صرف محکمہ صحت کی جانب سے جاری سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں۔ حکام کے مطابق، ایبولا سے متاثرہ ممالک سے واپس آنے والے افراد کو بھارت پہنچنے کے بعد 21 دن تک اپنی صحت پر نظر رکھنی ہوگی۔

افریقہ میں ایبولا وائرس کی نایاب اور خطرناک قسم ’بُنڈی بُگیو‘ کے پھیلنے کے بعد عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی طرح یہ بیماری بھی بین الاقوامی سفر کرنے والے افراد کے ذریعے دوسرے ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 4 مئی کو پیش آنے والے اس واقعے میں جہاز پر موجود مسافروں میں زیادہ تر برطانیہ، اسپین اور امریکہ کے شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر سات افراد میں وائرس کی علامات پائی گئیں، جن میں سے دو کیسز کی لیبارٹری رپورٹ کے ذریعے تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ دیگر پانچ افراد کو مشتبہ زمرے میں رکھا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے مشورہ دیا ہے کہ شہری علاقوں میں خسرہ کی ویکسین کی دونوں خوراکوں کی کوریج کم از کم 95 فیصد تک یقینی بنائی جائے۔ ساتھ ہی سرکاری و نجی صحت مراکز میں مشتبہ کیسز کی بروقت نشاندہی کے لیے مربوط نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر عموماً ٹھہرے ہوئے پانی میں انڈے دیتے ہیں، اس لیے گھر کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں۔ گملوں، ٹائروں، بالٹیوں یا کسی بھی کھلی جگہ پر پانی رکنے نہ دیں۔ یہ احتیاط مچھروں کی افزائش روکنے میں سب سے مؤثر قدم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 282 ملین کیسز اور 6 لاکھ 10 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے،