Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Politics

سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری ایک پوسٹ میں اشوک پنڈت نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اور ان کے حامی مبینہ طور پر ”اینٹی انڈیا سلیپر سیل“ عناصر کے ساتھ مل کر سرگرم ہو گئے ہیں، جس کے باعث ریاست میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق سویندو ادھیکاری 9 مئی کو رابندر جینتی کے موقع پر کولکاتا کے تاریخی بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کو بی جے پی ایک بڑے سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بنگال کے عوام نے بی جے پی سے بڑی امیدیں وابستہ کی ہیں اور پارٹی پوری ذمہ داری کے ساتھ ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تمام کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ”سونار بنگلہ“ کے خواب کو حقیقت میں بدلیں اور ریاست کو ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی راہ پر لے جائیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کی نئی قیادت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں سویندو ادھیکاری کے نام پر مہر لگا دی گئی، جس کے بعد وہ مغربی بنگال کے نئے اور بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ بننے جا رہے ہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد مغربی بنگال میں سیاسی تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہاوڑہ کے شیوپور میں بم دھماکے میں بی جے پی کارکن کے زخمی ہونے کی بات سامنے آئی ہے جبکہ کانتھی میں ترنمول لیڈرکے گھرپربھی حملہ کیا گیا۔ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پرالزامات لگا رہی ہیں۔

بہار میں ’سمراٹ حکومت‘ تشکیل دینے کے بعد امت شاہ کا اگلا ہدف بنگال ہے۔ آج کولکاتا پہنچ کر شاہ اس میٹنگ کی کمان سنبھالیں گے، جہاں یہ طے ہوگا کہ بنگال کا پہلا بی جے پی وزیرِ اعلیٰ کون بنے گا؟

مغربی بنگال میں انتخاب کے بعد تشدد کا ایک اور سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری نے تصدیق کی کہ ان کے نجی معاون چندرکانت رتھ کو مدھیام گرام کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

اگرچہ سوویندو ادھیکاری کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی روایت رہی ہے کہ وہ اکثر ایسے فیصلے کرتی ہے جو سب کو حیران کر دیتے ہیں۔ امت شاہ کی ترجیح ایسے لیڈر کا انتخاب ہے جو مضبوط انتظامیہ چلا سکے، سرحدی دراندازی پر قابو پائے اور ’’سونار بنگلہ‘‘ کے وژن کو عملی شکل دے سکے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگال ہمیشہ سے سیاسی کشیدگی، تشدد اور نظریاتی تصادم کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں امن و امان قائم کرنا ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں، قتل اور دیگر پرتشدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جنہوں نے ریاست کی شبیہ کو متاثر کیا ہے۔

بی جے پی لیڈروں نے اس جیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوام کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار ہے۔ پارٹی نے 200 سے زائد نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جسے لیڈر ”ڈبل سنچری“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔