مغربی بنگال کی سابق وزیرِ اعلیٰ ممتا بنرجی جمعرات کو کولکاتا ہائی کورٹ میں ایک اہم معاملے کی سماعت کے دوران خود وکیل کے طور پر پیش ہوئیں۔ یہ معاملہ حال ہی میں مکمل ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد مبینہ تشدد سے متعلق ہے۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس سوجے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین کی ڈویژن بینچ نے کی۔
درخواست کس نے دائر کی؟
یہ عوامی مفاد کی عرضی ایڈوکیٹ سرسنگیا بنرجی نے دائر کی ہے۔ سرسنگیا، سینئر وکیل اور ترنمول کانگریس لیڈر کلیان بنرجی کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے ہوگلی ضلع کی اُترپاڑہ اسمبلی سیٹ سے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا، لیکن بی جے پی امیدوار دیپانجن چکرورتی سے دس ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست کھائی۔
ممتا بنرجی بطور وکیل
ممتا بنرجی عدالت میں وکلا کے روایتی لباس یعنی کالے کوٹ اور سفید کالر بینڈ میں نظر آئیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی مخصوص سفید ساڑی، جس کے کنارے نیلے رنگ کے تھے، بھی پہن رکھی تھی۔ اس انداز میں انہوں نے پہلی بار انتخابی تشدد سے متعلق کسی معاملے میں بطور وکیل عدالت میں دلائل پیش کیے۔
سپریم کورٹ میں بھی نظر آ چکی ہیں
اس سے قبل رواں سال ممتا بنرجی سپریم کورٹ کی کارروائی کے دوران بھی موجود رہی تھیں۔ وہاں انہوں نے خصوصی گہری نظرثانی کے عمل سے متعلق کیس میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی بینچ کے سامنے مختصر طور پر اپنی بات رکھی تھی، تاہم اس وقت انہوں نے باضابطہ طور پر وکیل کا کردار ادا نہیں کیا تھا۔
انتخابی شکست اور سیاسی جھٹکا
حالیہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ خود ممتا بنرجی بھی جنوبی کولکاتا کی بھوانی پور سیٹ سے بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے ہاتھوں پندرہ ہزار سے زائد ووٹوں سے ہار گئیں۔ نتائج کے بعد انہوں نے گورنر آر این روی کو استعفیٰ پیش نہیں کیا اور کہا کہ نتائج عوام کی حقیقی رائے کی عکاسی نہیں کرتے۔ بعد ازاں گورنر نے اسمبلی تحلیل کر دی، جس کے ساتھ ہی ان کی حکومت کی مدت ختم ہو گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


